سکردو(پ،ر)پیپلز پارٹی ضلع سکردو کی جمہوری کابینہ جو پہلے کام کررہی تھی اسکو امجد ایڈوکیٹ نے مہدی شاہ کے دباؤ پر تحلیل کرکے اب پھر سے نئی کابینہ تشکیل دے دی۔ جسکو کسی صورت ضلع سکردو کی تنظیم نہیں کہہ سکتے ہیں۔ یہ تنظیم ضلع سکردو کے بجائے ضلع مہدی شاہ کی تنظیم ہوگی۔امجد ایڈوکیٹ نے مہدی شاہ سے سیاسی اختلاف رکھنے والے سابق کابینہ کے اہم اور اثر رکھنے والے تمام اراکین کو نئی کابینہ سے آؤٹ کیا گیا ہے۔ اور نئی کابینہ میں تمام اراکین مہدی شاہ کے حمایت یافتہ ہیں۔ پیپلز پارٹی سکردو کے دیرینہ کارکن رہنما نجف علی ۔ سابق سنئیر نائب صدر اور نوجوانوں کے مقبول رہنماء شہزاد آغا۔ وزیر اقبال۔ ودیگر اہم اراکین کو مہدی شاہ کی ایماء پر پیپلز پارٹی کی سکردو کی نئی تنظیم سازی سے باہر رکھا گیا ہے۔ جبکہ تین اہم دستوری عہدے حلقہ ایک کو ہی دئے گئے ہیں۔ ان میں سے جنرل سکریٹری اور انفارمیشن سکریٹری کا عہدہ ایک ہی محلہ کو دئے گئے ہیں۔ جہاں سے 2015 کے الیکشن میں مسلم لیگی امیدوار اکبر تابان نے اکثریتی ووٹ لئے۔ جبکہ پی۔وائی۔آو کی صدارات بھی الیکشن میں اکبر تابان کی حمایت کرنے والے بابو استوری کو سونپی جارہی ہے۔ ذرائع کے مطابق مہدی شاہ آپنا آثر و روسوخ پیپلز پارٹی میں قائم رکھنے کے لئے آپنے صاحبزادے کو ضلع سکردو کا صدر بنانا چاہتے تھے۔ لیکن اسکے بیٹے کو سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تو مہدی شاہ نے آپنے حمایت یافتہ لوگوں کی کابینہ امجد ایڈوکیٹ سے بنوا کر پیپلز پارٹی کو صرف آپنی ذات تک محدود رکھا۔ نئی بننے والی کابینہ میں حسن سنبل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ جو مہدی شاہ کے وزرات آعلی کے دور میں انکے انتہائی خاص تھے۔ جسکو سکردو کے لوگ ڈیفیکٹو وزیراعلی تصور کرتے تھے۔ تقریبا لین دین اور دیگر معاملات حس سنبل کے ذریعے ہی طے کرائے جاتے تھے
پاکستان پیپلزپارٹی سکردوکا بینہ کا الیکشن قائدین کے اختلافات کا شکار۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا