لاہور(ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے نامور منرل واٹر کمپنی کو گزشتہ 5 سال کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے پانی کے نمونوں کی لیبارٹری رپورٹ جلد پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے زیر زمین پانی نکال کر فروخت کرنے والی کمپنیوں سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔اس موقع پر منرل واٹر کمپنی کی جانب سے وکیل اعتزاز احسن پیش ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کیوں نا ریکارڈ ملنے اور لیبارٹری نمونے آنے تک فیکٹریاں سیل کردیں اور پانی کی فروخت پر پابندی لگا دیں۔چیف جسٹس نے وکیل اعتزاز احسن سے مکالمے کے دوران کہا کہ بڑی کمپنی کے وکیل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ عدالتی حکم نہ مانیں، کبھی تڑی سے پانی نہیں بکے۔سپریم کورٹ نے منرل واٹر کمپنی کو گزشتہ 5 سال کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا جب کہ عدالت نے پانی کے نمونوں کی لیبارٹری رپورٹ جلد پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔
چیف جسٹس نےمنرل واٹر کمپنی کے پانچ سالہ ریکارڈطلب کرلیا،پانی کی لیبارٹری رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا