نگر ( اقبال راجوا) عمائدین چھلت پائین قدیر شاہ ،محمد حسن اور دیگر نے کہا ہے کہ کشوملنگ روڑ کی تعمیر کا کام اگر اسی ہفتے شروع نہیں کرایا گیا تو ہم کے کے ایچ روڑ پر نکل کر احتجاج کریں گے ۔ انہوں نے مذید بتایا کہ کشو ملنگ لنک روڑ پر کام کرنے والا ٹھیکداس روڑ کو پیدل چلنے کے لائق بھی نہ بنائے تو ہمارا کروڑوں کا نقصان ہوگا ۔ کیوں یہ ہماری زمینداری اور زرعی اجناس کو موسم سرما کے لئے محفوظ کرنے کے دن ہیں ۔ جبکہ کشوملنگ لنک روڑ پر کام کرنے والے ٹھیکدار نے ہماری پیدل پگڈنڈی کو بھی بلاسٹنگ کر کے تباہ کر دیاہے ۔ جس باعث ہماری مال مویشی آر پار ہونا تو کجا انسان بھی پیدل کراس نہیں کر سکتا ہے۔ محکمہء تعمیرات عامہ ایک ہفتے کے اندر اس بات کو یقینی بنائے کہ بلاسٹنگ ملبے کو پگڈنڈی سے ہٹوادے تاکہ ہم اپنی مال مویشیوں کو کشوملنگ لے جا اور لا سکیں اور کشوملنگ سے تمام قسم کا پھل فروٹ سمیت گھاس پوس اور چارہ بھی با آسانی لاد سکیں ۔ اگر ایسا نہیں کرا یا گیا تو ہمارا کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے کیوں پھل فروٹ سمیت ہماری مال مویشی کے لئے موسم سرما کا گھاس پوس گل سڑ کر ختم ہو جائے گا۔ قابل زکر بات یہ ہے کہ چھلت پائین ،چھلت بالا، اکبر آباد اور رابٹ کے سینکڑوں لوگوں کی موضع کشو ملنگ میں ہزاروں کنال اراضی ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا