سی پیک منصوبوں میں چینی کمپنیوں کو ذیادہ فائدے کا خدشہ، معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لینا شروع۔

0 0

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کا دعوی ہے کہ مطابق پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو بیجنگ کی سرمایہ کاری کے منصوبے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔برطانوی اخبار کو انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے اقتصادی امور عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ ماضی میں کیے گئے معاہدوں میں چینی کمپنیوں کو زیادہ فائدہ ہو رہا ہے جب کہ پاکستانی کمپنیاں نقصان میں رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ شروع میں سی پیک کی توجہ انفرا اسٹریکچر پر تھی لیکن اب ہماری ترجیحات انسانوں کو فائدہ پہنچانے پر ہے جب کہ ہم چینی کمپنیوں کو زیادہ فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے۔
حکومتی کے مشیر کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر سی پیک منصوبے کا جائزہ لینے کے لیے نو رکنی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے جو سی پیک معاہدے کا تفصیلی جائزہ لے گی۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا خیال ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری ( سی پیک ) منصوبہ میں چینی کمپنیاں زیادہ فائدے میں رہی ہیں، اس معاملے کو جانچنے کے لیے پاکستان کی نو منتخب حکومت نے گزشتہ حکومت کے دور میں چین سے کیے گئے معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ملائیشیا، سری لنکا اور میانمار پہلے ہی سی پیک منصوبے کے معاہدوں کی شرائط پر اعتراض کر رہے ہیں جب کہ چینی وزیر خارجہ نے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران 2006 میں کیے گئے معاہدے پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
پاک چین اقتصدی راہداری (سی پیک) ایک بہت بڑا تجارتی منصوبہ ہے جس کا مقصد پاکستان سے چین کے شمال مغربی علاقے سنکیانگ تک راستہ بنانا ہے۔ اس راہداری کے ذریعے گوادر بندرگاہ، ریلوے لائن اور موٹروے کے ذریعے تیل اور گیس کی کم وقت میں چین تک ترسیل یقینی بنائی جائے گی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website