وفاق سے آنے والے چیف سکریٹریز گلگت بلتستان کو کتنا ٹیکس دیتے ہیں جو شاہانہ مراعات مانگ رہے ہیں۔ مولانا سلطان رئیس

0 0

گلگت (پ،ر)وفاق سے آنے والے چیف سکریٹریز گلگت بلتستان کو کتنا ٹیکس دیتے ہیں جو شاہانہ مراعات مانگ رہے ہیں.سپریم اپیلٹ کورٹ کے اندر رشوت اور سفارش کی بنیاد پر بھرتیاں اور ترقیوں کی وجہ سے لوکل ملازمین کا استحصال ہورہا ہے.سرکاری محکموں کے اندر اندھیر نگری اور اقربا پروری کی وجہ سے عارضی ملازمین احتجاج پر مجبور ہیں.مولانا سلطان رئیس چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں آنے والے چیف سکریٹریز کے مراعات اور پروٹوکول میں اضافے کا سن کر نہ صرف افسوس ہوا بلکہ صوبائی حکومت اور گورنر گلگت بلتستان کا کردار بھی مشکوک ہوچکا ہےایسی سوچ اگر پیدا کی گئی ہے تو فورا اسے ترک کیا جائے کیوں کہ عوامی ایکشن کمیٹی اس طرح عوامی مال پر ڈاکے ہرگز اجازت نہیں دے سکتی اگر اس پر عملدرآمد کرا نے کی کوشش کی گئی تو ممبران اسمبلی کے اضافی مراعات اور تنخواہوں کے خلاف بھی تحریک چلے گی.انہوں نےکہا کہ سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان میں میرٹ کی پامالی مثال بن چکی ہے چند افراد کے ذریعے لوکل ملازمین کا استحصال ادارے کے حوالے سے عدم اعتماد کا باعث بن رہا ہے.پوسٹس شیئرنگ فارمولے کی دھجیاں بکھیر کر پن پسند افراد کا ڈھیر لگا دیا گیا ہےرانا شمیم کے جانے کے بعد نئے چیف جسٹس کے تعینات تک جسٹس جاوید کو چارج نہ دینے سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کا فرد جس پوزیشن میں ہو اشرافیہ کیلئے قابل اعتبار نہیں.انہوں نےکہا کہ ایگریمنٹ اور معاہدوں کے باوجود عارضی ملازمین کو مستقل نہ کرنا افسوسناک ملازمین کی احتجاج کا مکمل حمایت کریں گے محسوس یوں ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان حکومت نے احتجاج سے پہلے مسائل حل نہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے انہوں نےکہا کہ سوست میں این ایل سی کے تعین سے امیدیں وابستہ تھی مگر جب سے این ایل سی نے چارج سنبھالا ہے مسائل میں اضافہ نظر آرہا ہے آئے دن دنگے فساد اور ملازمین کا استحصال معمول بن چکا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website