شگر(نامہ نگار)امام جمعہ والجماعت جامع مسجدتسرجناب شیخ علی خان نادم نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ضلع شگرکی ثقافت ایک اسلامی ثقافت ہے,اس کوداغداربنانے کیلئے مختلف لوگ سرگرم ہے,ناچناگاناشگرکی ثقافت نہیں,لوگ اس کوشگرکی ثقافت سے جوڑنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں,ہم اس کی بھرپوراندازمیں مذمت کرتے ہیں,خطاب کرتے ہوئے انکامزیدکہناتھاکہ شگرکے پہاڑوں پراین جی اوزکی قبضہ جمانے کی کوشش قابل مزمت ہے,پہاڑوں میں موجودمعدنیات یہاں کے عوام کاحق ہے ناں کی این جی اوزکا,این جی اوزپہاڑوں پرقبضہ کرنے سے پرہیزکریں ورنہ عوامی درعمل کاسامناکرناپڑھ سکتاہے,تسرکے آٹے کوغیرملکی سیاحوں کوفراہم کرنے کاانکشاف کرتے ہوئے ان کاکہناتھاکہ خبرملی ہے تسرکے کوٹے کے آٹے کوغیرملکی سیاحوں کودی گئی ہے,تسرکے کوٹے کاآٹاتسرکے عوام کاحق ہے,عوامی حقوق غصب کرنے کی کوششکی گئی توعوام سخت احتجاج کرنے پرمجبورہونگے,اعلی حکام جلدمعاملے کانوٹس لے کرعوام کوآٹافراہم کریں,یونین کونسل تسرکے دکانوں میں غیرمعیاری چیزوں کی فروخت کاتذکرہ کرتے ہوئے انکاکہناتھاکہ دکانوں میں غیرمعیاری اشیاء کی فروخت عام ہوچکی ہے,جسکی وجہ سے مختلف بیماریاں سراٹھانے لگے ہیں,دکاندارحضرات غیرمعیاری چیزیں فروخت کرنے سے اجتناب کریں,تاکہ بیماریاں پھیلنے کی شددمیں کمی آسکیں,بصورت دیگربیانک نتائیج کا سامنا ہونگے.
ناچناگاناشگرکی ثقافت نہیں،جو لوگ اس کوشگرکی ثقافت سے جوڑنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں وہ انتباہ رہے۔ امام جمہ جامع مسجد تسر شگر
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا