سکردو(پ،ر)ملک کے معروف صحافی حسن نثار نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت ڈاکٹر عامر لیاقت کو کشمیر کمیٹی کے خالی چیر مین شپ پربراجمان کرنے لئے سوچ رہی ہے ۔ اس خبر پر تحریک انصاف گلگت بلتستان کے سینیررکن اور ڈپٹی صوبایی کنوینر سید محمد عباس کاظمی نے شد ید احتجاج کرتے ہوے کہا ہے ۔اگر یہ خبر درست ہے تو اس کا یہ مطلب ہو اکہ جناب عمران خان جیسا حقیقت پسند وزیر اعظم سابقہ چور لٹیرے اور نا اہل وزرائے عظمیٰ کی طرح ریاست کشمیر کے شہریوں اور کشمیر کاز جو کہ پاکستانی سیاست کہ شہ رگ ہے کو کسی ڈسٹ بن کا کوڑا سمجھ رہے ہیں ۔جب کہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے اورریاست کشمیر کی آزادی کے لئے پاکستان کے ہزاروں فوجی جوانوں اور افسران کے علاوہ اورہزاروں شہریوں نے اپنی جانو ں کے نذرانے دئے ہیں اور اپنے بچوں کو بدترین انصافیوں اور ظلم و جبرسے بھری دنیا میں بے سہارا چھو ڑ گئے ہیں۔پاکستانی اور ریاست کشمیر کے مختلف اقوام کی اس عظیم قربانیوں کو یوں نظر اندازکرنا کہ ان کے معاملات سے متعلق ایک بہت ہی اہم منصب پر عامر لیاقت حسین جیسے مسخرا اور بغیر پیندے کے لوٹے کو تعین کیا جائے ۔ ہمیں یقین تو نہیں آتا کہ عمران خان صاحب جیسا دانشور اور میرٹ کو اولیت دینے والا لیڈر صرف اپنے پارٹی کا ممبر ہونے کے حوالے یا ٹاپ کلاس خوشامدی شخص کو کشمیر کمیٹی کا چیرمین منتخب کرے کا جس کے خود تو ایک طرف بلکہ اس کی سات پشتوں میں سے کسی ایک کا بھی نہ تو ریاست کشمیر کی سرزمین کے ساتھ کوئی خونی تعلق یا کوئی ہمدردی تھااورنہ عامر لیاقت حسین کو مسئلہ کشمیرکے ا لف اورب کا پتہ ہے ۔البتہ وہ کشمیر کمیٹی کاچیر مین بن کر اس عالمی مسئلہ کے حل کے لئے اقوام متحدہ کے سٹیج پر الٹی سیدھی حرکتیں کر سکتا ہے اور شاید اس کی پرفار منس کی بناء پر دنیا میں پاکستان کی واہ واہ بھی بہت ہو۔ یہ بات سب کے سامنے ہے کہ پاکستان کی سابقہ حکومتوں اور سیاسی پارٹیوں نے ـ’’ مسئلہ کشمیر‘‘ کی اہمیت کو کم کرتے رہے اور کبھی کبھار کشمیر کے مظلوم باشندوں اور پاکستانی عوام کو بیوقوف بنانے کا لئے اس مسئلہ کا ذکر کرتے رہے ہیں۔جس نے بھارت کو اس ریاست پر اپنا قبضہ مضبوط سے مضبوط کرنے کا جواز فراہم کیا۔ بھلا عمران خان صاحب قوم کو یہ بتائے کہ اپنے ایک بڑے ہمسایہ ملک بھارت سے ستر سالہ دشمنی اور تین بڑی جنگوں کے علاوہ لاتعداد جھڑپوں کی وجہ کیا تھی ۔ اگر عمران خان صاحب کو معلوم نہیں ہے تو میں بتاتا ہوں کہ اسن سب دشمنی اور جنگوں کی واحد وجہ کشمیر پر بھارت کا ناجائز قبضہ اور اس ریاست کے باشندوں پر ان کا وحشیانہ ظلم ہی تو ہیں۔گر کشمیر کمیٹی اور اس کی سربراہی کشمیر اور کشمیریوں سے متعلق نہیں اور اسے ایک مذاق کے طور پر بنایا گیا تھاتو اب اس ریاست کے کسی باخبر باشندے کے بجائے اس عہدے اس مسخرہ لوٹے کو ہی متعین کرنا ہے تو اس سے بہتر ہے کہ اس کمیٹی اور عہدے کو ہی ختم کردیا جائے تاکہ جس پاکستان کو لٹ لٹا کر آپ کے حوالے کیا گیا ہے اس فضول کشمیر کمیٹی کے زاید اخراجات سے تو بچ سکے۔ بہر حال اس دفعہ عمران خان صاحب نے کسی غیر ریاستی شخص کو اس عہدے پر فائز کیا تو یہ اس متنازعہ ریاست کے باشندوں کے ساتھ کھلی زیادتی ہوگی۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا