گلگت(محبوب خیام)گلگت گزشتہ دنوں سرفرنگا مقابلے کی اختتامی تقریب میں سینئر وزیر اکبر تابان اور حال ہی میں ذمہ داریاں سنبھالنے والے اسسٹنٹ کمشنر کے درمیان پہلے تلخ کلامی پھر ہاتھا پائی کی خبر منظر عام پر آگئی تھی۔ سوشل میڈیا پر بتایا گیا تھا کہ اسسٹنٹ کمشنر نے سینئر وزیر کو اس اختتامی تقریب سے روکنے کی کوشش کی تھی جس پر اکبر تابان اور اے سی کے درمیان گرما گرمی کے بعد سینئر وزیر نے اے سی کو زدوکوب کیا تھا۔
باوثوق ذرائع کے مطابق جھگڑا سینئر وزیر کو روکنے پر نہیں بلکہ سینئر وزیر کے صاحبزادے اور اس کے درجن بھر دوستوں کا بغیر کارڈ زبردستی تقریب میں گھسنے کی کوشش پرہواا تھا ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تقریب میں محدود مہمانوں کے لئے نشتیں رکھوائی گئی تھیں اگر مدعو کئے گئے مہمانوں کے علاوہ بھی لوگوں کو تقریب میں جانے کی اجازت دی جاتی تو تقریب بد نظمیں کا شکارہو سکتی تھی تقریب میں نظم ضبط برقرار رکھنے اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے کو روکنے کے لئے اے سی خود ڈیوٹی پر موجود تھے۔
اس دوران اکبر تابان تقریب میں شرکت کے لئے آئے تو انہیں مکمل پروٹوکول کے ساتھ جانے کی اجازت دی گئی جبکہ ان کے صاحبزادے جو اپنے درجن بھر دوستوں کے ہمراہ بغیر کارڈ زبردستی تقریب میں شرکت کرنا چاہتے تھے کو اے سی نے بغیر کارڈ اندر جانے سے روکتے ھوئے معذرت کرلی جس پر وزیر موصوف جلال میں آگئے پہلے گالم گلوچ کی پھر جب جی نہیں بھرا تو ڈیوٹی پر مامور اے سی کو زدوکوب کرکے نہ صرف اپنا غصہ ٹھنڈا کیا بلکہ اپنے عمل سے ثابت کیا کہ وزیر وزیرہو تاہے اور ان سے پنگا لینے والوں کا یہی انجام ھو تا ھے۔
سینئر وزیر اکبر تابان اور اسسٹنٹ کمشنر سکردوکے درمیان ہاتھا پائی کی اندورن کہانی منظر عام۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا