اسلام آباد( نامہ نگار) گلگت بلتستان کئی ثقافتوں اور تہذیبوں کا امین ہے ۔ صدیوں سال پہلے اس خطے میں کئی مذاہب کے عروج اور زوال کی داستانیں مختلف اشکال میں آج بھی یہاں قائم دائم ہیں جو اس خطے کی تاریخی اور ثقافتی ورثہ ہے۔ لیکن میانمار میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں پر مذہبی انتہا پسند طبقے کی جانب سے سوشل میڈیا پر( مشعل) نامی فیس بک پیج سے گلگت بلتستان میں موجود بدھا مجسوں اور قدیم ثقافتی مقامات کو ختم کرنے کیلئے مسلسل پروپگنڈہ کیا جارہا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں اس قسم کے دہشت گردوی کی روک تھام کے حوالے سے متعلقہ ادارے ناکام نظر آتا ہے۔ حکومت گلگت بلتستان کو چاہئے کہ اثار قدیمہ کے مراکز ، مقامات اور داخلی چیک پوسٹوں پر سیکورٹی کو ذیادہ سے ذیادہ موثر بنائیں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا