غذر( نامہ نگار خصوصی)گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں گزشتہ دنوں آنے والے سیلابی ریلے نے کئی مکانات کو لپیٹ میں لیکر تباہ برباد کیا ہے ۔ سیلابی ریلے نے آبادیوں اور سڑ کوں کو بھی شدید متاثر کیا جس کی وجہ سے ضلع غذر کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطعہونے بعد بعد جزوی طور پر رابطہ سڑک کی بحالی کا جاری ہیں جبکہ سینکڑوں افراد محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرگئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق حالیہ بارشوں اور گلیشئر پر برف پگھلنے سے پانی کے بہاؤمیں اضافے کے باعث سیلابی ریلے نے تباہی مچاتے ہوئےآبادیوں اور سڑکوں کو شدید متاثر کیا جبکہ پانچ گھر اور ایک گاڑی سیلابی ریلے میں بہہ گئے ،تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔سیلابی ریلے کے نقصان سے بچنے کے لئے سینکڑو ں افراد محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوگئے ہیں جبکہ شدید سیلاب سے ضلع غذر کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے ۔گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منجمنٹ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کارکردگی دکھانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آئے جبکہ مسلم لیگ نون کے حکومتی اراکین سیلاب ذدہ علاقوں میں آکر عوامی زخم پر مرہم رکھنے کیلئے سیلفیاں لیتے رہے۔ دوسری طرف چیف سیکرٹیری گلگت بلتستان کے دفتر سے جاری اعلامئے کے مطابق متاثرین کی امداد کیلئے خیمے پونچا دئے ہیں جبکہ تباہ شدہ علاقوں کی بحالی کیلئے مشینری بھی پہنچا دی گئی ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا