سکردو(نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار ان دنوں سیاحت کی غرض سے گلگت بلتستان کے دورے پر ہیں۔ گلگت بلتستان ہر علاقے میں اُنکا پُرتباک استقبال کیا جارہا ہے ۔ گلگت بلتستان کے عوام نے موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے گلگت بلتستان میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ریاستی اداروں کی جانب سے مسلسل عوام کو ہراساں کرنے اور عوامی املاک پر حکومتی قبضوں کے خلاف بھرپور شکایت کیا جارہا ہے۔ عوام ہر جگہ ان کا والہانہ استقبال کیا اور پھولوں کے ہار بھی پہنائے۔ ۔عوام نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا ہے کی کہ انہوں نےموبائل کارڈ سمیت ایک نیم سرکاری اداروں کے سربراہوں کے تنخواہوں شراب کی برامدگی اور بجلی کی میٹر تک پر سو موٹو ایکشن لیا ہے جو خوش آئند ہے مگر گلگت بلتستان کی قوم کاکیا قصور ہےجو پچھلے ستر سال سے بنیادی حقوق سے محروم ہیں، عوام کی جانب سے نعروں کے انداز میں مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو نہ پاکستان میں شامل کیا جارہا ہے اور نہ ہی اس خطے کی متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر حقوق دیا جارہا ہے۔ عوام کی جانب سے سوال کیا جارہا ہے ستر سالوں بنیادی حقوق سے محروم قوم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے بیس سال پرانے فیصلے پہ عملدرامد نہیں ہو رہا اس پہ سو موٹو لیا جائے۔ اس موقع پرچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے گلگت بلتستان کی عوام کو یقین دلایا کہ وہ ان کے مطالبات اور ستر سالہ محرومیوں سے متعلق بہت جلد خوشخبری دیں گے۔


More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا