شگر( نامہ نگار ) محکمہ تعلیم کی جانب سے اساتذہ کرام کی آئے روز تحقیقات کے نام پر بے توقیری سے معاشرے میں انتشارپھیلنے کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔ عمائدین ہورچس، ہشوپی اور پھڑنگ باماں شگر کے ایک اہم اجلاس میں اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا کہ تعلیم جیسے اہم شعبے میں تحقیقات تحقیقات کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، گزشتہ کئی سال پہلے بھی اس طرح کا ڈرامہ رچایا گیا تھا اور اساتذہ کئی مہنوں تک سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے تھے اور نقصان فقط طلبہ وطالبات کا ہواتھا ، لیکن حاصل جمع صفر ہی رہا، اب کے بار پھر غلط پروموشن اور ڈگری کے نام پر صرف بلتستان ڈویژون میں اساتذ ہ کو تنگ کرنے کے لیے ایک بار پھر کچھ خوفیہ عناصر سرگرم ہو گئے ہیں۔ عمائدین علاقہ نے اس موقعے پر محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ سرکار ی سکولوں میں زیر تعلیم غریب والدین کے بچوں کو بھی انسان سمجھا جائے۔ پورے گلگت بلتستان کے لیے ایک جیسا سلوک روا رکھا جائے۔ تحقیقات کے نام پر صرف بلتستان ریجن کے اساتذہ کرام کو تنگ کرنے سے باز آجائے۔ تعلیم کا شعبہ عبادت کا درجہ رکھتا ہے اسے مذاق نہ بنایا جائے۔ اگر کہیں کوئی غلطی ہوئی ہے تو سب سے پہلے اعلیٰ عہدوں پر فائز عناصر کو تحقیقات میں شامل کرکے بے نقا ب کیا جائے۔ احتساب کا عمل اُوپر سے نیچے کی جانب ہو۔عمائدین علاقہ کا کہنا تھا کہ اگر اس بار اساتذہ احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر آئے اور ہمارے بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی تو مرد خواتین سب سٹرکوں پر آکر احتجاج کریں گے۔ سرکاری سکولوں میں معاشرے کے غریب طبقہ کے بچے ہی زیر تعلیم ہے اور ان کے پاس احتجاج کرنے کے علاوہ کوئی دروازہ نہیں ہوتا۔۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا