گلگت (ڈسٹرک رپورٹر)متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان اسمبلی اور عوامی ایکشن کمیٹی کا مشترکہ اجلاس اصلاحاتی پیکج 2018 کے خلاف متفقہ تحریک چلانے کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی اور متحدہ اپوزیشن نے کل پورے میں گلگت بلتستان میں مشترکہ علامتی دھرنا دینے پر اتفاق کرلیا۔ قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور رہنما متحدہ اپوزیشن کپٹن ریٹائرڈ محمد شفیع خان نے ہمارے نمائندے سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت گلگت بلتستان کے قومی تشخص کو بچانے کیلئے انتہائی اہم ہے اس موقع پر اگر ہم نے ذرا بھی غلطی کی تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا، اُنہوں نے کہا آج قومی اسمبلی میں فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرلیا گیا لیکن گلگت بلتستان کو دو سال تک سرتاج عزیز کمیٹی کے نام پر بیوقف بناتے رہے اور آخر میں وزیر اعظم کو گلگت بلتستان میں غیر منتخب بادشاہ بنانے کا پیکج مسلط کرنے کی کوشش کی گئی جس کے خلاف احتجاج دھرنا ہمارا جمہوری حق اور قوم کا قرض ہے۔ اس موقع پر چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی مولانا سلطان رئیس کا کہنا تھا کہ ہم نے وفاق کو بہت وقت دیا اور ہر موقع پر کوشش کی کسی بھی وجہ سے دشمن ممالک کو وطن عزیز کے خلاف پروپگنڈہ کرنے کا موقع نہ ملے۔ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ ہماری وفاداریوں کو پاوں تلے روند دیا گیا ۔ جس کی تازہ مثال فاٹا کو قومی دھارے میں شامل کرنا اور گلگت بلتستان کو پیکج کے نام پر شاہی فرمان پر چلانے کی کوشش ہے۔ اُنہوں نے عوام سے خصوصی طور پر گزارش کہ ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی اور متحدہ اپوزیش کے احتجاجی دھرنوں کو کامیاب بنا کر قومی بیداری کا ثبوت دیں ورنہ ہم تاریخ کے اندھیروں میں گم ہوسکتا ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا