اسلام آباد(ویب ڈیسک )قومی اسمبلی میں فاٹا کے خیبر پختونخوا الحاق سمیت5 بلز پیش کئے گئے جن میں سے4 بلوں کی منظوری دے دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق سپیکر سردار ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا ، سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں قومی اسمبلی اجلاس میں فاٹا کی خیبر پختونخوا میں نمائندگی سے متعلق31 ویں آئینی ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ آئینی بل کی شق وار منظوری لی گئی اور بل کی حمایت میں 229 اراکین نے ووٹ دیا جب کہ صرف ایک رکن نے اس کی مخالفت کی۔ بل کے مطابق آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 اور سینیٹ میں 8 نشستیں برقرار رہیں گی، آئندہ برس فاٹا کے لئے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ فاٹا میں صوبائی قوانین کا فوری اطلاق ہوگا اور منتخب حکومت قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔ بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھانے اور ایف سی آر کے مکمل خاتمے کا بھی ذکر ہے۔ جے یو آئی ف اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آئوٹ کر دیا۔ شق وار منظوری کے بعد اسمبلی نے مکمل بل کی بھی منظوری دے دی۔ فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بل کی اہمیت کے پیش نظر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی 2 سال بعد ایوان میں آئے۔ دوسری جانب میری ٹائم معلوماتی تنظیم بل 2018، سٹیٹ بنک آف پاکستان سروسز کار پوریشن ترمیمی بل 2017 ،سٹیٹ بنک آف پاکستان سروسز کار پوریشن ترمیمی بل ،تمام شقوں کی یکے بعد دیگرے منظوری حاصل کر نے کا بل،بنکوں کا قومیانا ترمیمی بل 2018،سرمایہ کاری کارپوریشن پاکستان تنسیخ بل 2018،رضہ جات برائے زرعی، تجارتی و صنعتی اغراض ترمیمی بل 2017 بلز کی منظوری دی گئی۔ مزید برآں دوسری سہ ماہی رپورٹ برائے مالی سال 2017-18 کی رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی گئی۔ علاوہ ازیں ورکنگ بائونڈری پر بھارتی بلا اشتعال فائرنگ سے شہید ہونے والے افراد کے ایصال ثواب کے لئے قومی اسمبلی میں فاتحہ خوانی کرائی گئی اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔
فاٹا قومی دھارے میں شامل،فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنےکا ترمیمی بل قومی اسمبلی میں کثرت رائے سے منظور۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا