اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ قرضے اسی رفتار سے لئے جاتے رہے تو پاکستان کا موجودہ قرضہ جون2018ءتک 95ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتا ہے۔حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے 9ماہ کے عرصے میں چین سے 1.5ارب ڈالر قرضہ لیا ۔ دستاویزات کے مطابق چین نے اورنج لائن لاہور منصوبہ کیلئے334ملین ڈالر،سکھر ملتان کیلئے 691 ملین ڈالر،حویلیاں ٹھاکور کیلئے273ملین اور نیلم جیلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کیلئے88ملین ڈالر قرضہ فراہم کیا ۔پاکستان نے مجموعی طور پر جولائی سے اپریل2018ءتک دوطرفہ کثیرالمقاصد کمرشل بنکوں اور بانڈز کی مد میں 9.1ارب ڈالر قرضہ لیا ۔ 1.9ارب ڈالر قرضہ اور گرانٹس کی مد میں لئے گئے ۔دستاویزات میں بتایا گیا کہ رواں سال چین سے1.5ارب ڈالر،فرانس سے16ملین ڈالر،2.67ملین ڈالرجرمنی،59ملین ڈالرجاپان،0.44ملین ڈالرکوریا،2.14ملین ڈالر کویت اور22.50ملین ڈالر سعودی عرب سے لئے گئے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا