سکردو (قاسم قاسمی)عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام یاد گار شہداء سکردو پر جی بی آرڈر 2108 کے خلاف سخت احتجاجی مظاہرہ کیا گیاہزاروں کے رعداد میں عوام نماز جمعہ کے بعد جامعہ مسجد سے ریلی کےشکل میں یاد گار شہداء تک آئے مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز آٹھائے رکھے تھے جس پر حکومت مخالف نعرے درج تھے یاد گار شہداء پر پہنچتے ہی ریلی احتجاجی جلسے کی شکل اختیار کی۔ جلسے سے عوامی ایکشن کمیٹی کے ممبران سمیت دیگر ارکان نے تقریریں کیں مقررین نے کہا کہ جی بی آرڈر 2018 گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق چھیننے کے لئے بنائے گئے ایک کالا قانون ہے جس میں گلگت بلتستان کے عوام کو ستر سالہ محرومیوں کے ازالہ کرنے کے بجائے ان کو مزید پابند کیا جا رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ قانون صرف اور صرف سی پیک سمیت دیگر معاملات میں پاکستان سے حقوق مانگنے پر بنایا گیا ہے تاکہ آئندہ سر زمین بے آئین گلگت بلتستان سے اٹھنے والے کسی بھی آواز کو باآسانی دبا سکیں اور آواز آٹھانے والوں کو بلا کسی عزر کے پابند سلاسل کر کے مزید غلامی میں دھکیل سکیں مقریرین نے اس آرڈر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کے گلگت بلتستان اسمبلی میں آنے کا اصل وجہ بھی یہی ہے کہ یہاں آکر اس نام نہاد آرڈر کا اطلاق کر کے جائیں ہم وزیر اعظم کے گلگت آمد کا بھی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں اور اس قانون کو مسترد کرتے ہیں انکا مزید کہنا تھا یہ قانون واپس لیا جائے بصورت دیگر پورے گلگت بلتستان کو جام کر کے احتجاجی مظاہرہ کریں گے۔


More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا