گلگت(ڈسٹرک رپورٹر)متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان نے 25 مئی سے پورے گلگت بلتستان میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کر دیا۔ واضع رہے متحدہ اپوزیشن نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ گلگت میں جلسہ کیا اور اسلام آباد پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دہرنہ بھی دیا، مگر حفیظ سرکار گلگت بلتستان کے عوام پر ظالمانہ آرڈر جبری طور پر نافذ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے تمام آئینی دروازوں پر دستک دی مگر کہیں سنوائی نہیں ہوئی تو پورے گلگت بلتستان میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ متحدہ اپوزیشن نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ظالمانہ آرڈر 2018 کے خلاف 25 مئی احتجاجی مظاہرے شروع کریں اور اس ظالمانہ آرڈر کے مسترد ہونے تک احتجاجی سلسلوں کو جاری رکھیں۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی نے اسلام آباد پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دہرنے کے بعد اب پورے گلگت بلتستان میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ 25 مئی سے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگا۔. واضع رہے 24 مئی کو مسلم لیگ ن کی حکومت گلگت بلتستان آرڈر 2018 کو جبرا مسلط کرنے جا رہی ہے جو گلگت بلتستان کے عوام کو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ اس حوالے سے اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کپٹن ریٹائرڈ محمد شفیع خان کا ہمارے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عوامی احتجاج ہمارا آخری فیصلہ اور جمہوری حق ہے ۔ اُنکا کہنا تھا کہ قوم کی بقاء اور خطے کی ستر سالہ محرومیوں کو ختم کرنے کیلئے میں ذاتی طور پر احتجاجی مظاہروں کو لیڈ کروں گا اور کسی بھی صورت گلگت بلتستان کو غیروں کیلئے چراگاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔
بلاآخرمتحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان نے خوفناک اعلان کردیا۔ پورے گلگت بلتستان میں احتجاجی مظاہروں کا تاریخ فائنل۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا