اسلام آباد(ویب ڈیسک)پاکستانی ٹور آپریٹرز کی جانب سے مناسب رہنمائی نہ ملنے پر نسوار رکھنے کے الزام میں درجنوں پاکستانی عراق کی جیلوں میں قید ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مقدس مقامات کی زیارت اور دیگر مقاصد کے لیے بڑی تعداد میں پاکستانی عراق کا سفر کرتے ہیں، ان پاکستانیوں میں نسوار استعمال کرنے والے افراد بھی شامل ہوتے ہیں، پاکستان میں نسوار کو منشیات میں شمار نہیں کیا جاتا، اس لیے عراق جانے والے پاکستانی زائرین بڑی مقدار میں نسوار ہمراہ لے جاتے ہیں۔عراق میں پاکستانی سفارت خانے میں تعینات کمیونٹی ویلفیئر اتاشی وقاص احمد لانگاہ نے اس بارے میں ڈائریکٹر جنرل پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کو خط لکھا کہ عراقی پولیس نے نسوار رکھنے والے کئی پاکستانیوں کو منشیات رکھنے اور استعمال کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ مقامی میڈیا میں پاکستانیوں کی منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتاری کی خبریں پاکستان کا تاثر خراب کرتی ہیں۔ ویلفیئر اتاشی نے اپنے خط میں تجویز دی ہے کہ عراق آنے والے پاکستانیوں کے لیے پاکستانی ایئرپورٹس پر نسوار عراق میں ممنوع ہے کی اطلاع آویزاں کی جائے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ عراق میں نسوار ممنوع ہونے کے بارے میں ہدایات جلد تمام ایئر پورٹس پر آویزاں کر دی جائیں گی۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا