اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارش پر وفاق کی جانب سے گلگت بلتستان پیکج 2018 کا متن منظرعام پر آنے کے بعد گلگت بلتستان میں ہل چل سی مچ گئی ہے۔ آج دن بھر سوشل میڈیا پر سب سے ذیادہ اس حوالے سے یہاں کے باشندے اپنے اپنے نظرئے کے تحت حمایت اور مخالفت میں صف آرا ء نظر آتا ہے۔ ذیادہ تر لوگ اس پیکج کو گلگت بلتستان کے عوام کی ستر سالہ قربانیوں اور مملکت پاکستان کیلئے دی جانی والی قربانیوں کے مسلم لیگ نون کی حکومت نے کھلم کھلا مذاق اُڑایا ہے۔کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ یہ پیکج گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی اور گلگت بلتستان لائر فورم کے مطالبوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا ہے کیونکہ 2009 پیکج میں گلگت بلتستان کی شہریت واضح نہیں کیا تھا جبکہ اس پیکج میں سٹیزن شب ایکٹ 1951 کے تحت گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاکستانی شہری کا درجہ دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس ایکٹ کے مطابق اس ایکٹ میں عوامی حقوق کو مکمل طور پر نظرانداز کیا ہے۔ دوسری جانب کچھ اس ایشو پر بھی لوگ بہت ذیادہ غم اور غصے میں نظر آتا ہے کہ اس پیکج کے مطابق وزیر اعظم کو گلگت بلتستان کے تمام تر اختیارات منبع قرار دیا ہے جبکہ مقامی عدالتوں کو بھی وزیر اعظم کے کسی فیصلے کے خلاف کاروائی کے اختیار نہیں ہونگے۔ سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کے ایکٹوسٹ مسلم لیگ نون کی حکومت سے بلکل ہی بیزار نظر آتا ہے، کہا جارہا ہے کہ دہائیوں کے بعد 2009 میں جو اختیارات گلگت بلتستان کو منتقل ہوئے تھے موجودہ حکومت نے اپنی انا کی خاطر سے لپیٹ کر وزیر اعظم ہاوس کو منتقل کرنے میں کردار ادا کیا ہے جو کہ گلگت بلتستان میں آنے والے وقتوں میں بہت ذیادہ مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو پاکستانی شہریت کا درجہ دینے کے ساتھ سپریم اپیلٹ کورٹ اور چیف کورٹ کا آرڈر گلگت بلتستان تک محدود ہوگا، اور ملک کے دوسرے صوبوں پر گلگت بلتستان کی عدالت کے کسی بھی فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا، گلگت بلتستان کی کسی بھی عدالت کا فیصلہ وزیراعظم پاکستان کے فیصلے پر بھی اثرانداز نہیں ہوسکے گا۔ جیسے شقات اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اس پیکج کا اصل مقصد گلگت بلتستان کے عوام کی سیاسی محرومی کو ختم کئے بغیر گمراہی رکھ کر یہاں کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔ سوشل میڈیا پر سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ پورے پاکستان سے ہٹ کر صرف گلگت بلتستان میں کسی بھی قسم کی ناگہانی حادثہ یا نقصان کی صورت میں معاوضوں کی ادائیگی بھی آرٹیکل 107 کے تحت وزیراعظم ہی کریں گے اور یہ آرڈر لاگو ہوتے ہی گلگت بلتستان کونسل کے تمام ممبران فارغ ہو جائیں گےاور کونسل کے 6 ممبران کو وزیراعلٰی کا مشیر بنایا جائے گا۔اس قسم کے شقات گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ ظلم ہے اور گلگت بلتستان کونسل کے خاتمے سے یہاں کے عوام کی احساس محرومی ختم ہونگے نہ ہی اس خطے کو کوئی فائدہ ہوگا بلکہ یہ کونسل پہلے بھی ایک بے اختیار ادارہ تھا اب چند افراد کو مزید مشیر بنانا فقط سرکاری خزانے پر بوجھ کے سوا کچھ نہیں۔
یاد رہے گزشتہ دنوں گلگت بلتستان کے حوالے سے لاہور میں منعقد سمینار میں عوامی ایکشن کمیٹی چرمین مولانا سلطان رئیس سمیت آغا علی رضوی اور سابق جج سید جعفر شاہ او دیگر گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق نہ ملنے کی صورت میں متنازعہ حیثیت کے مطابق اقوام متحدہ کے چارٹرڈ اور ملکی خارجہ پالیسی اور کشمیر کاز کو سامنے رکھتے ہوئے سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزیوں کا روکنے اور متنازعہ بنیاد پر انتظامی سیٹ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ 2018 پیکج منظر عام پر آنے کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی نے اس حوالے سے اپنالائحہ عمل طے کرنے کیلئے مشاورت شروع کردی ہے۔
گلگت بلتستان پیکج2018 کا اعلان ،سوشلستان پر ہنگامہ اور نون لیگ کی حکومت پر کڑی تنقید۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا