اسلام آبا( ویب ڈیسک ) وزیراعظم کی زیرصدارت قو می سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، مسلح افواج کے سربراہان، وفاقی وزرا اور دیگر حکام شریک، ملکی و داخلی سیکورٹی اور دیگر اہم امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیرمحمود حیات اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، وزیر داخلہ احسن اقبال، وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل، نیول چیف ظفرمحمود عباسی، ایئرچیف مجاہد انورخان، مشیر قومی سلامتی ناصر جنجوعہ نے بھی شرکت کی۔قومی سلامتی کمیٹی نے افغانستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کی، اعلامیہ جاری کیا کہ پاکستان کےعوام دکھ کی اس گھڑی میں افغان عوام کے ساتھ ہیں۔ وزیراعظم کا حالیہ دورۂ افغانستان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اہم قدم قرار دیا گیا۔اجلاس میں خطے کی موجودہ صورت حال پر بھی غورکیا گیا اور متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ قومی مفاد کے تحفظ اور سلامتی کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں۔اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان کے مجوزہ انتظامی و اصلاحاتی پیکیج پرغور کیا گیا، کمیٹی نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان میں عوامی خواہشات کے مطابق انتظامات کیے جائیں۔مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں منظورکی گئی واٹر پالیسی پر کمیٹی کو بریفنگ دی گئی، کمیٹی نے واٹرپالیسی کو اہم کام یابی قرار دیا۔ ڈپٹی چیئرمین نے وزیر اعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ کی جانب سے پانی کے چارٹر پر کمیٹی کو بریف کیا اور کہا کہ واٹر پالیسی اور پانی کے چارٹر سے پانی بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ملک کی ترقی کراچی کی ترقی سے مشروط قرار دے دی،وزیرخزانہ نے اجلاس میں پاکستان کی معاشی کارکردگی پر بریفنگ دی، مفتاح اسماعیل نے کمیٹی کو گزشتہ پانچ برسوں میں حکومت کی معاشی کام یابیوں سے آگاہ کیا۔ سیکریٹری داخلہ نے ویزوں کے نظام، سیاحوں، طلبہ اور علاج معالجے کی سہولیات پر بریفنگ دی۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ و خارجہ کو نئی پالیسی کی جلد تکمیل کے لیے کام کرنے کی ہدایت کی۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا