واشنگٹن (نیوزڈیسک) امریکہ کی جانب سے پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت محدود کرنے کا فیصلہ عارضی طور پر ملتوی کردیا گیا ہے، دونوں جانب سے کی جانے والی کوششوں کے باعث پاکستانی سفارتکاروں کی نقل و حرکت محدود کرنے کا فیصلہ وسط مئی تک ملتوی کیا گیا ہے۔ڈان نیوز کے مطابق امریکہ کی جانب سے پاکستانی سفارتکاروں پر گزشتہ ہفتے نئی پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس پر یکم مئی سے عملدرآمد ہونا تھا تاہم دونوں جانب سے تعلقات میں بہتری کے لیے کی جانے والی کوششوں کے سبب اس فیصلے کو مئی کے وسط تک ملتوی کردیا گیا ہے۔پاکستان کی جانب سے غیر ملکی شہریوں اور سفارتکاروں پر فاٹا، کراچی اور بلوچستان کے کچھ علاقوں کا سفر اختیار کرنے پر دہشتگردی کے خطرے کے پیش نظر پابندی عائد کی گئی تھی۔اس ضمن میں پاکستان میں موجود امریکی مشن تک رسائی حاصل کرنے والے افراد کو بھی کڑی حفاظتی نگرانی اور شناخت کے عمل سے گزرنا پڑ رہا تھا، پاکستان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد صرف غیر ملکی مشن اور ان کے ملازمین کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی سفارتکاروں سے ملاقات کیلئے آنے والوں کو بھی سخت تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑتا تھا جس پر امریکا میں موجود پاکستانی سفارتخانے نے، امریکی خدشات سے اسلام آباد میں موجود حکام کو آگاہ کیا تھا جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو دو طرفہ تعلقات میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے حکام کو مذکورہ معاملے کے دور رس نتائج کے پیش نظر، اس کے حل کے لیے امریکی سفارتی اہلکاروں کے ساتھ مذاکرات کی بھی سفارش کی گئی تھی۔پاکستانی سفارت خانے نے خبردار کیا تھا کہ امریکا کی جانب سے سفارتکاروں کی نقل و حرکت محدود کیے جانے کے فیصلے سے دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف کیے جانے والے منفی پروپیگنڈے میں اضافہ ہوگا اور امریکا میں رہنے والی پاکستانی کمیونٹی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔اسی ضمن میں سفارت خانے کی جانب سے ان خدشات کا بھی اظہار کیا گیا تھا کہ اس قسم کی پابندیاں پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں لا کھڑا کریں گی جنہیں واشنگٹن میں دشمن ملک سے تشبیہہ دی جاتی ہے، مثلاً ایران اور کیوبا وغیرہ۔
امریکہ مان گئے، تعلقات میں نرمی آگئی،سفارت کاروں کے حوالے سے فیصلہ واپس۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا