کھرمنگ( نامہ نگار خصوصی) ضلع کھرمنگ یونین کونسل طولتی کے حددو میں واقع سرکاری مڈل اسکول میں حال ہی میں تعینات ہیڈماسٹر نے اپنے کاروباری مقاصد کیلئے خود ساختہ قانون بنا لیا۔ تفصیلات کے مطابق اس اسکول کے ہیڈ ماسٹر کا اپنا ذاتی سٹیشنری , یونیفام اور جنرل سٹور کی دوکان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے آتے ہیں اپنی طرف سے خود ساختہ قانون نافذ کردیا۔ جس کے مطابق اُنہوں نے لازمی قرار دیا ہے اسکول میں پڑھنے والے تمام طلباء صرف اُنکی دوکان سے نیا یونیفارم اور ٹائی خریدیں اور اُنکی دوکان سے ہی خریدیں ورنہ اسکول سے نکال دیا جائے گا۔ اس نئے اور خودساختہ قانون پر عمل درآمد کرنے میں ناکامی پر ہلال آباد سے تعلق رکھنے والے طالب علم کو اسکول سے فارغ کردیا ہے۔ غاسنگ تا اہلال آباد اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سمیت اہل علاقہ نے ہیڈ ماسٹر کی اس من منانی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر تعلیم سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس اسکول مین پڑھنے والے طلباء کے والدین کا کہنا ہے کہ اس غریب معاشرے میں جہاں روزگار کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ایک عام آدمی کو اپنے بچوں کی پڑھائی ایک چیلنج سے کم نہیں لیکن یونیفارم پہلے سے ہونے کے باوجود اُسے ختم کرکے ہیڈماسٹر کا اپنے کاروبار کو چمکانے کیلئے نیا قانون غریب عوام کیلئے ا نتہائی نامناسب ہے۔
اہل علاقہ نے ارباب اختیار ڈپٹی کمشنر کھرمنگ، وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قسم کے من مانیوں اور کرپشن کو روکنے کیلئے ضروری اقدام اُٹھائیں اور مڈل سکول مادھوپور میں موجود ایس ایس ٹی کے ایل پی سی والے تمام اساتذہ کو واپس یہاں تعینات کیا جائے اور ہمارے علاقے کو تعلیمی بدحالی سےبچایا جائے۔ اور غاسنگ ہائی اسکول میں ٹیچرز کی کمی اور ہیڈماسٹر کی تبادلے خلاف قرارداد پر فوری عملدارمد کی جائے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا