کھرمنگ ( پ،ر) دنسر تھنگ ڈسٹرکٹ کھرمنگ یونین کونسل حمزی گون کاسرحدی گاوں ہے۔ اس کے پہاڑوں پر پاک فوج کی چوکیاں ہیں اور ساتھ ہی انڈین بارڈر لگتا ہے۔ دفاعی لحاظ سے اس انتہائی اہم گاوں گنوخ نالہ کے پانی سے یہ سیراب ہوتا ہے اور کئی کلومیٹر کا واٹر چینل اُس وقت جب تعمیرات کیلئے چھوٹے سے چھوٹے اوزار تک کی سہولت موجودنہیں تھی، انتہائی خطرناک پہاڑوں کے دامن میں سراخیں نکال کر لوہے کے راڈز پر لکڑی کے موٹے تختیرکھ کر چینل تعمیر کیاہوا ہے، عام آدمی کیلئے آج بھی اس واٹر چینل کے اوپر چلنا کسی بڑے ایڈونچر سے کم نہیں ہے۔اس سے بڑھ کر کمال یہ ہے کہ ایک جگہ پر کئی فٹ ٹنل بھی بنایا گیا ہے جس کے بغیر شاید گاوں تک پانی پہنچانا ایک خواب ہی رہ جاتا۔ لیکن اُس دور کی شاندار دیسی انجینیرنگ کے زریعے انتہائی محنت مشقت سے آباد کیا گیا گاوں آج ضروریات زندگی کے تمام تر سہولیات سے محروم ہیں۔
دنسر یوتھ آرگنائزیشن کے صدر قاسم پاشا، اراکین ذوالفقار دارا اور دیگر کے بقول آج سے دس سال پہلے دو ہزار سات میں ٹینڈر ہونیوالی 2۔3 کلومیٹر سڑک تاحال مکمل نہ ہو سکا اسی روڈ کو گنوخ نالہ سے ملانے والا پل ٹینڈر ہونے کے باوجود تعمیر نہیں ہوسکا۔بجلی کے پولزلائنیں اور ٹرانسفارمر لگنے کے باوجود بجلی نہیں دی جا رہی۔ دو ہزار سات میں ہی تعمیر ہونیوالی ڈسپنسری آج بھی محکمہ صحت کی راہ تک رہی ہے۔ اراکین اور صدر کاکہنا تھا ان تمام زیادتیوں اور محرومیوں کے باوجود ہم سڑکوں پر اس لئے نہیں آ رہے ہیں کیونکہ ساتھ ہی انڈین بارڈر ہے اور ہم دشمن کو کسی طرح بھی پروپیگنڈے کرنے کو موقع نہیں دنیا چاہتے۔ مگر اب ہمارے صبرکا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے حکومت نے ہمارے مسائل کی حل کیلئے عملی اقدامات نہیں کیا تو ہم کھرمنگ گنوخ لائن آف کنٹرول پر دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔
کمشنر بلتستان کو چاہئے کہ متازعہ علاقوں کے سرحدی علاقوں کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی وفاق پاکستان کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہیں لہذا دنسر تھنگ کے مسائل کی حل کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دیکر اُن مسائل کی حل کیلئے عملی کوشش کریں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا