کراچی(ذیڈ اے کھرمنگی)سماجی رابطوں کی مقبول ویب سائٹ فیس بک پر گلگت بلتستان کے عوام کا لینڈ ریفارمز بل،متوقعہ دینے والے پیکج سمیت گلگت بلتستان کے بنیادی حقوق کو لے کرعوام نے زبردست تحریک شروع کر رکھا ہے۔عوام کی اکثریت پچھلے 70 سالوں سے وفاقی حکومت کی طرف سے نظر انداز کرنے پر سخت سیخ پا ہے۔عوام کی اکثریت کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں آذادی اظہار رائے پر مکمل پابندی اور وفاقی حکومت کی طرف سے نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہمارے مسائل میں روز بروزاضافہ ہوتا جا رہا ہے۔حالیہ دنوں میں لینڈ ریفارمز بل نامنظور اور اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی کیلئے عوام اور خاص کر جوانوں کی بڑی تعداد نے تحریک شروع کر رکھا ہے۔اس حوالے سے گلگت بلتستان کے دانشوروں کا کہنا ہے کہ ہمیں لگتا ہے یہ تحریک آنے والے دنوں میں گلگت بلتستان میں اٹھنے والے تمام پہلے تحریکوں کے مقابلے میں ذیادہ موثر ہو گا۔کیونکہ گلگت بلتستان میں ایک طرف خالصہ سرکار کے نام پر عوامی زمینوں پر سرکار قابض ہو رہے تو دوسری طرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوسرے علاقوں سے لوگ یہاں آ کر آباد ہو رہیے ہیں جو کہ عالمی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے۔اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق کوئی بھی غیر مقامی باشندہ یہاں جائیداد نہیں بنا سکتا۔اس لیے عوام اور طلبا کی بڑی تعداد نے پانچواں صوبہ جیسے ناممکن مطالبات کے بجائے آذاد کشمیر جیسے آذاد آئین ساز اسمبلی سمیت اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی جیسے مطالبات کرنے شروع کیےہیں۔ جوانوں کی اکثریت اس تحریک کے حوالے سے ایک دفعہ پھر عوامی ایکشن کمیٹی کے مولاناسلطان رئیس اور آغا علی رضوی سے امید لگائے ہوئے ہیں۔اور عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنماوں سے اس حوالے سے تحریک شروع کرنے کے متمنی نظر آ رہے ہیے
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا