سرتاج عزیز کمیٹی کے سفارشات میں آئینی حقوق کا معاملہ پھر سےدب جانے کے بعد سٹیٹ سبجیکٹ کے مطالبے میں تیزی آگئی۔

0 0

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حوالے سے سرتاج عزیز کمیٹی کے سفارشات میں اصل مسلے کو ایک مرتبہ پھر نظرنداز کرنے کے بعد گلگت بلتستان کے عوام میں مایوسی عروج کو پونچ چُکی ہے۔ جو لوگ کل تک صوبہ نہیں بن سکتا کہنے والوں پر لعن طعن کرتے تھے آج وہ طبقہ بھی یہی کہہ رہا ہے کہ گزشتہ ستر سالوں سے اس خطے کے عوام کو آئینی حقوق نے نام پر مقامی مذہبی اور سیاسی پارٹیوں نے اپنے سیاسی اور مالی مفادات کیلئے بیوقوف بنایا ہوا ہے۔ 2009 پیکج عوام آئینی حقوق سمجھ رہا تھا لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ایسا کچھ نہیں بلکہ وفاق سے کچھ اختیارات گلگت بلتستان کو منتقل کیا ہے جسے عوام صوبہ سمجھ بیٹھے جس کے نتیجے میں عوام کو بغیر کسی حقوق کے ٹیکس نافذ کیا گیا گندم کی سبسڈی میں کٹوتی کی بات کی گئی اور آج بھی بلاواسطہ ٹیکس کی وصول ہورہا ہے۔ مسلم لیگ نون کی حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق دینے کا وعدہ کیا اور سرتاج عزیز کمیٹی بغیر کسی نتیجے کے مزید کچھ اختیارات کی منتقلی کے سفارشات کے ساتھ برخاست ہوگیا ۔ ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نواز خان ناجی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اب نئے پیکج میں وزیر اعلیٰ کا نام تبدیل کرکے پرائم وزیر اعلیٰ رکھا جاسکتا ہے کیونکہ جو حقوق گلگت بلتستان کو اس خطے کی متنازعہ حیثیت کے مطابق ملنا چاہئے تھا وہ پاکستان دینے کیلئے تیار نہیں اور نہ ہی اس خطے کے نام پر سیاست کرنے والوں کو اصل قومی ایشوز سے کوئی غرض ہے۔ یوں مایوسی کے اس عالم میں سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حوالے سے عوام نے بھی قوم پرستوں کی زبان بولنا شروع کیا ہے۔ گلگت بلتستان کے سینئر صحافی عالم نور حیدر کہتے ہیں کہ ایک طرف گلگت بلتستان متنازعہ ہونے کی وجہ سے حقوق نہیں دیا جارہا ہے دوسری طرف متنازعہ حیثیت کے مطابق بھی حقوق دینے کیلئے وفاق تیار نہیں، سٹیٹ سبجیکٹ تمام منتازعہ خطوں میں نافذ ہیں لیکن گلگت بلتستان میں اسکی کھلی خلاف ورزی ہورہی ہے اور اہم اداروں کے اعلیٰ افسران بین الاقوامی قوانین کی پامالی کرکے اس خطے میں بنگلوز بنائے جارہے ہیں لیکن کوئی پوچھنےوالا نہیں۔ اس وقت سٹیٹ سبجیکٹ کی بحالی کا مطالبہ سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کے یوتھ یہاں تک مذہبی جماعتوں اور طلباء تنظیموں میں بہت مقبول ہورہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاق کس حد تک اپنے عوامی مطالبے کی پاسداری کرتے ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website