اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) گلگت بلتستان کے انتظامی معاملات میں بہتری لانے کیلئے مسلم لیگ نون کی حکومت نے پیکج 2018 فائنل کرکے وزیر اعظم کو ارسال کردیا۔ ذرائع کے مطابق اس پیکج میں گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کے برابر لانے کے بجائے موجودہ نظام کو مزید بااختیار بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ پیکج گلگت بلتستان آرڈر 2018 ” کا مسودہ وزیر اعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بیرسٹر ظفر اللٰہ خان کی سرپرستی میں تیار کیا گیا ہے ۔ چار صفحات پرمشتمل سمری میں وزارت امورکشمیر وگلگت بلتستان نے موقف اپنایا ہےکہ بین الاقوامی قوانین مسلہ کشمیر اور ملکی مفاد کے تناظر میںگلگت بلتستان کی موجودہ آئینی حیثیت کو تبدیل کرتے ہوئے دیگرصوبوں کے برابرآئینی صوبہ بنانے اورقومی اسمبلی وسینٹ میں نمائندگی دینے سے متعلق اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کونہ چھیڑنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔تاہم اس معاملے پرآگے چل کرغورکیا جائے گا۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزارت امورکشمیر و گلگت بلتستان نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو”گلگت بلتستان آرڈر2018 ” کا مسودہ منظورکرنے اور اسے کابینہ میں پیش کرنے کیلئے حتمی سمری ارسال کردی ہے۔ اس ڈرافت کی تیاری میں گلگت بلتستان حکومت، وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان سمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے جامع مشاورت کی گئی ہیں اور سٹیک ہولڈرز کی سفارشات کو مسودہ میں شامل کیا گیا ہے۔ نئے آرڈر کے تحت گلگت بلتستان حکومت کو انتظامی طور پر مزیدبااختیار بنانے کیلئے گلگت بلتستان کو نسل کو ختم کیا جائے گا، گلگت بلتستان کوقومی مالیاتی کمیشن(این ایف سی)، مشترکہ مفادات کونسل(سی سی آئی) اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) اور انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا)سمیت دیگرآئینی اداروں میں بطور مبصرو نان ووٹنگ ممبر نمائندگی دی جائے گی جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن(ایف پی ایس سی) میں بھی گلگت بلتستان کے ایک رکن کو شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہیں تاہم اس کو ڈرافٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا ہے اس کیلئے الگ سے قانون سازی کی جائے گی۔ نئے آرڈر کے مطابق گلگت بلتستان کونسل کے خاتمہ کے بعد اس کے ماتحت کام کرنے والے انتظامی ادارے اور سیکرٹریٹ جن میں اکاونٹنٹ جنرل گلگت بلتستان، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف آڈٹ گلگت بلتستان اور ڈیپارٹمنٹ آف انلینڈ ریونیو کے مستقل ملازمیں بشمول اثاثہ جات کنٹرول جنرل آف اکاونٹٹ اسلام آباد، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو منتقل ہوجائیں گے اسی طرح گلگت بلتستان سیکریٹریٹ میں کام کرنے والے ایسے ریگولر ملازمیں جو گلگت بلتستان کے ڈومیسائل ہولڈرز ہیں ان کو یہ آپشن دیاجائے گا کہ وہ یا توگلگت بلتستان حکومت میں اپنی انڈکشن کریں یا انہیں فیڈرل سرپلس پول میں بھیج دیا جائے گا جبکہ گلگت بلتستان کونسل سیکرٹریٹ اسلام آباد میں کام کرنے والے ایسے ملازمیں جوگلگت بلتستان کے ڈومیسائل ہولڈرز نہیں ہیں انہیں فیڈرل سروس سرپلس پول میں ڈال دیا جائے گا۔ سمری میں مزید کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کونسل میں کام کرنے والے 100کنٹیجنٹ ملازمیں کی قسمت کا فیصلہ حکومتی پالیسی کے مطابق کیا جائے گا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا