اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)4 کھرب 74 ارب کی لاگت سے پاکستان کے تیسرے سب سے بڑے ڈیم کی منظوری دیدی گئی،6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی ، 4500 میگاواٹ بجلی پیداکرے گا،قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) نے 4 کھرب 74 ارب کی لاگت سے دیامیر بھاشا ڈیم منصوبہ اور تقریباً 18 ارب 35 کروڑ روپے کی لاگت سے لودھراں ٗملتان ٗخانیوال ٗشاہدرہ باغ ریلوے سگنلز کی تبدیلی کی منظوری دیدی ہے۔قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) کا اجلاس وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت منگل کو وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا جس میں 474000 ملین روپے کی لاگت سے دیامیر بھاشا ڈیم منصوبہ (صرف ڈیم جزو) کی منظوری دی گئی۔ ڈیم کی 6.4 ملین ایکڑ فٹ براہ راست ذخیرہ جاتی گنجائش ہو گی اور یہ 4500 میگاواٹ بجلی کی نصب شدہ استعداد کا حامل ہو گا ٗتکمیل کے بعد اس منصوبہ سے پاکستان کی قومی آبی ذخیرہ کی گنجائش 38 سے بڑھ کر 45 روز ہو جائے گی اور تربیلا ڈیم سمیت ڈاؤن سٹریم ذخائر کی مدت کا عرصہ بھی بڑھے گا۔ ایکنک نے2998.10 ملین روپے کی لاگت سے گوادر۔لسبیلہ روزگار معاونت منصوبہ پر نظرثانی کی بھی منظوری دی۔ اس منصوبہ کا مقصد بلوچستان کے 2 اضلاع گوادر، لسبیلہ میں غربت میں کمی لانا ہے۔ یہ کمیونٹی ڈویلپمنٹ، ماہی پروری اور دیہی بنیادی ڈھانچہ کی بہتری سمیت کئی اہم اقدامات کا حامل منصوبہ ہے۔ 4231.83 ملین روپے کی مجموعی لاگت سے تریموں جھنگ کے قریب 1320 میگاواٹ کے آر ایل این جی پاور پلانٹ سے بجلی کی ترسیل کی بھی منظوری دی گئی۔ 4711.981 ملین روپے کی لاگت سے ’’انصاف تک رسائی پروگرام‘‘ کے تحت وفاقی پروگرام پر نظرثانی کی بھی منظوری دی گئی۔ جاری منصوبہ کا مقصد دفاتر کی عمارات سمیت مطلوبہ بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر کے ساتھ قانونی، عدالتی، پولیس اور انتظامی اصلاحات پر عملدرآمد کرنا ہے۔ ایکنک نے 18346.60 ملین روپے کی لاگت سے پاکستان ریلویز کے لودھراں۔ملتان۔خانیوال۔شاہدرہ باغ مین لائن سیکشن سے پرانے اور فرسودہ سگنل گیئر کی تبدیلی کی بھی منظوری دی۔ اس منصوبہ کے دائرہ کار میں یوسف والا ریلوے سٹیشن کی ری ماڈلنگ اور 24 بغیر پھاٹک ریلوے لیول کراسنگ کو پھاٹک والی ریلوے کراسنگ میں بدلنا شامل ہے۔
قومی اقتصادی کونسل نے دیامیر بھاشا ڈیم منصوبے کی منظوری دی گئی۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا