چلاس ( رپورٹ ؛ عباداللہ شاہ )گزشتہ دنوں ہونےوالی طوفانی برفباری نے علاقے میں تباہی مچادی، علاقہ مسلسل تین دن تک طوفانی بارشوں اور برفباری کی زد میں رہا۔پوری وادی میں نظام زندگی معطل ہوکر رہ گیا۔ بارشوں نے وادی کا رابطہ ملک کےدیگر حصوں سےمکمل منقطع کردیا۔ بجلی کےاکثرپول گرنےکیوجہ سے علاقہ مکمل طور پرتاریکی میں ڈوب گیا۔ کئی گھرزمین بوس اور درخت جڑوں سے اکھڑگئے۔ مگر یہ وادی شہر ناپرسان ہے۔ جو نہ صرف موبائل سگنلز سے محروم رہا بلکہ روڈ بلاک ھونیکی وجہ سے ذہنی پریشانیوں کا شکارہوگیا۔ اسکے علاوہ میڈیکل سٹاف بھی ٹس سے مس نہیں ہوا ۔ موجودہہنگامی صورت حال میں اعلیٰ عہدیداروں کیطرح لیویز فورس کا کردار بھی زیرو رھا۔ البتہ محکمہ واٹر اینڈ پاور اس تمام صورت حال میں نہ صرف ایکٹیو رہا بلکہ مکمل جانفشانی اور فرض شناسی کے ساتھ جہد مسلسل کرکے فوری طور پر وادی میں بجلی کا نظام بحال کردیا۔ وگرنہ علاقے میں نہ صرف آٹے کی قلت کا خدشہ تھا بلکہ روڈ بلاک ہونے کی وجہ سے پٹرول پمپ پے تیل کا قحط پڑگیا تھا۔ محکمہ واٹر اینڈ پاور کی اس کاکردگی پر عوام نے گہرے اطمنان اور سکھ کا سانس لیا۔ ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور تحصیل انتظامیہ کے ذمہ داران چلاس میں بیٹھ کر علاقےسے باخبررھے۔ ایک تحصیلدار علاقے میں موجود تھا، لیکن روپوش رھا۔ باخبر ذرائع کیمطابق پتہ چلا ھےکہ ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور تحصیل انتظامیہ کے ذمہ داران چلاس میں بیٹھ کر اپنے لئے ڈرائیورز بھرتی کررھےھیں کیونکہ مذکورہ حضرات بغیر گاڑی کےزمین پہ قدم نہیں رکھ سکتے۔ جس علاقے میں عوام برفباری اور بارشوں کے پانی میں تیرتے زندگی بسر کرنے پر مجبور ھو اور انکے حکمرانوں کو یہ فکر لاحق ھو کہ صبح وہ پیدل دفتر تک کیسے جائینگے تو ایسے حکمرانوں کو ذرا عمر فاروق کی زندگی کا مطالعہ کرنا ضروری ھوتاھے۔ علاقہ مکینوں نے اس بات پردکھ اور افسوس کا اظہار کیا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ذمہ داروں کی یہ غیرذمہ داری ، ان کے فرائض کی انجام دھی پہ سوالیہ نشان ھےکیونکہ جہاں عوام کو قیامت کا سامنا ھو اور حکمرانوں پہ بارش کا قطرہ نہ پڑےاور کیچڑ کی چھینٹوں سے محفوظ رھے وھاں عدل و انصاف کے قیام اور ترازو میں بہت بڑا فرق رونما ھوجاتا ھے۔ مقامی لوگوں نے چیف سیکریٹری اور کمشنر دیامر ڈویژن سے اپیل کی ھےکہ وہ اس علاقے اور علاقہ مکینوں کو نظرانداز کرنےوالے انتظامی آفیسران کو نہ بخشیں اور خود بھی علاقے کا دورہ کرکے عوام کی حوصلہ افزائ اور دلجوئی فرماہیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا