اسلام آباد ( نامہ نگار خصوصی) وزیر اعلی گلگت بلتستان کی جانب سے گلگت بلتستان کے عوامی ملکیتی زمینوں کو ریاست کی زمین قرار دینے کی خبر پر سوشل میڈیا پر آج صبح سے ہنگامہ برپا ہے۔ وزیر کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے خوب چھترول کیا جارہا ہے۔ اس حوالے سے کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ جب تک گلگت بلتستان کا کوئی مقامی وزیراعلی نہیں ہوگا اس وقت تک کشمیری پنجابی پٹھان سے یہی امید کی جاتی ہے کیونکہ ہمارا وزیراعلی کشمیری ہے کشمیری کبھی بھی گلگت بلتستان کا ہمدرد ہے نہیں ہوسکتا اور فیصلے بھی اسی طرح ہوتے رہیں گے۔ دوسری کچھ حلقے اس قسم کے رائے کو مسترد کرتے ہیں اُنکا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان ہو یا آذاد کشمیر کی حکومت اصل اختیار اُن کے ہاتھ میں نہیں بلکہ یہ لوگ مہرے ہیں جنہیں مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں انکا کام صرف لکھے ہوئے پرچے کو پڑنا ہے اس سے ذیادہ ان کی کوئی حیثیت نہیں لہذا کشمیر اور گلگت بلتستان میں جو دوریاں پیدا کئی گئی ہے اُس کی وجہ بھی یہی ہے کہ عوام ایک دوسرے کے مسائل اور قانونی حیثیت کو نہ سمجھے۔ آج صبح سے سوشل میڈیا پر جاری مسلسل عوامی غم اور غصے کو دیکھ ایسا لگتا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام اب اس حقیقت کو جان چُکے ہیں اس خطے کی جو حیثیت ہے اُس کے مطابق حقوق نہیں دینے کیلئے اس قسم کے حربے استعمال کئے جاتے ہیں جسکا نتیجہ بڑا بھیانک ہوسکتا ہے لیکن گلگت بلتستان کی حکومت عوامی رائے کا احترام کرنے کے بجائے وفاق کے احکامات کے آگے بے بس نظر آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ جب گلگت بلتستان میں ریاست کی کوئی قانونی تعریف ہی نہیں تو حکومت کس کھاتے میں عوامی زمینوں کے ریاستی زمین کا نام دیکر بغیر معاوضے کے ہتھیانے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح کچھ طبقہ کہتا ہے کہ گلگت بلتستان مسلہ کشمیر سے منسلک ایک متنازعہ خطہ ہے یہی وجہ ہے کہ مسلسل عوامی احتجاج اور قانون ساز اسمبلی سے کئی مرتبہ متفقہ قراداد پاس ہونے کے باوجود وفاق گلگت بلتستان کو آئینی طور پر پاکستان میں شامل کرنے میں ناکام نظر آتا ہے جس کی بنیادی وجہ مسلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف اور اقوام متحدہ کی قرادادیں ہیں جس میں گلگت بلتستان کا شمار بھی متنازعہ خطوں میں کیا جاتا ہے۔لہذا خالصہ سرکار مہاراجہ کشمیر کا قانون ہے جس میں ترمیم کا مقامی حکومت کو بھی اختیار نہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری مسلسل عوامی غم اور غصے میں کچھ لوگوں کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان حکومت اس وقت خطے کے عوام میں انتشار پھیلانے اور عوام کو بغاوت کی طرف اُکسانے کی راہ پر چل نکلے ہیں جسکا مقصد گلگت بلتستان میں بھی بلوچستان جیسا صورت حال پیدا کرنا ہے جسے جانے انجانے میں حفیظ الرحمن استعمال ہورہا ہے۔ کچھ سوشل ایکٹوسٹ کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق پاکستان کے چار صوبے ہیں اور گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے۔ یہ خطہ پاکستان زیر انتظام ہے زیر ملیکت نہیں اور یہاں پر صوبائی طرز پر حکومت قائم ہے صوبائی نہیں لہذا بنجر زمینوں کا مسلہ کشمیر پر مملکت پاکستان کی موقف اور اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کو سامنے رکھتے ہوئے تشریح کریں تو مہاراجہ کی ملیکت ہوسکتا ہے حکومت گلگت بلتستان کی نہیں ، لیکن مہاراجہ ریاست ختم ہونے کے بعد جب تک اس خطے کی مستقبل کے حوالے سے قانونی فیصلے نہیں ہوتے یہاں کی زمینیں،کھیت کھلیار،پہاڑ صحرا جنگل سب عوام کی ملکیت ہے۔
خالصہ سرکار کے نام سے انداراج عوامی زمینوں کے حوالے وزیر اعلی کا متنازعہ بیان،سوشل میڈیا پر قیامت برپا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا