سکردو (پ۔ر) پیپلز پارٹی بلتستان ڈویژن کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد حسین کی جانب سے عمران ذاکر،ممتاز مقداد،ڈی ایس پی (ر)محمد حسن، ایڈووکیٹ محمد علی اور اقبال منگو کے اعزاز میں پیپلز سیکریٹریٹ سکردو میں دی گئی ٹی پارٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنماوں عبدالله حیدری،محمد بشیر،محمد علی ایڈووکیٹ اور افضل سیمیال نے کہا کہ حکومت خالصہ سرکار کے نام پر عوام کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ بند کرے۔سکردو کی انتظامیہ کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ ظالمانہ اقدامات سے باز رہیں۔ورنہ عوام کا ہاتھ انکے گریبان پر ہوگا۔سکردو میں عوامی تعمیرات گرائے جانے پر نواز لیگ کے بلتستان ریجن کے عوامی نمائندوں کی مجرمانہ خاموشی سوالیہ نشان ہے۔پیپلز پارٹی ان زیادتیوں پر خاموش نہیں رہے گی اور بہت جلد صوبائی قائدین سے ملکر بھر پور احتجاج کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔دراصل گلگت بلتستان کے عوام کو سی پیک میں حصہ مانگنے کی سزا دی جارہی ہے ۔حکومت خالصہ سرکار کے نام پر گلگت بلتستان کی معدنیات اور قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتی ہے ۔ایک طرف تو گلگت بلتستان کو نہ صرف سی پیک اور سیاحت کی رائلٹی سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ الٹا خالصہ سرکار کے نام پر زمینوں سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ایک ہی صوبے میں دو طرح کے قوانین برداشت نہیں کئے جائیں گے۔رات کے اندھیرے میں لوگوں کی تعمیرات مسمار کرنا حکومتی خطرناک عزائم کو ظاہر کرتا ہے شاید وہ جان بوجھ کر بلتستان کا پر امن ماحول خراب کرنے کی سازش کر رہے ہیں ۔تقریب میں سینیٹ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی بھرپور کامیابی کی خوشی میں کیک بھی کاٹا گیا مقررین نے کہا کہ تین صوبوں سے کامیابی سے ایک بار پھر ثابت ہوا ہے کہ پیپلز پارٹی ہی وفاق کی علامت اور پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے اس موقع پر آصف علی زرداری کی اعلیٰ سیاسی بصیرت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی گئی کہ آئندہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی دوبارہ برسراقتدار آئے گی اور عوامی مسائل حل کرے گی ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا