سکردو ( قاسم قاسمی ) گزشتہ رات دو بجے کے قریب چھومک تھنگ پر سرکار نے شگر انتظامیہ کےذریعے رہائشی مکانات کو منہدم کیا گیا۔ اس خبر کو سُنتے ہی ممتاز عالم دیں سیکرٹیری جنرل مجلس وحدت المسلین گلگت بلتستان آغا علی رضوی کی قیادت میں بلتستان کے عوام،وکلاء سیاسی سماجی رہنماوں صحافیوں کے ساتھ موقع کا دورہ کیا۔ اس موقع پر آغا علی رضوی نے کہا انتظامیہ کی جانب سے خالصہ سرکار کے نام پر مسلسل عوامی املاک مسمار اہل بلتستان کے خطرے کی گھنٹی ہے جس پر سیاسی قیادت کی مکمل خاموشی بلتستان کے عوام کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے عوامی املاک کی مسمار کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان اور چھومک عوام کی جانب سے جامع مسجد سے لیکر یادگار شہدا تک احتجاجی ریلی نکالا گیا۔ ریلی میں شریک عوام نے اتنظامیہ کے خلاف پلے کارڈ اُٹھایا ہوا تھا جس پر انتظامیہ کے خلاف نعرے درج تھے۔ یادگار شہدا پر عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنمامقامی حکومت کے خلاف خوب گرجے اور برسے اور اس اقدام کو بلتستان کی امن کے خلاف سازش اور اہلیان بلتستان کو اپنی زمینوں نے بے دخل کرکے اپنے ہی علاقے میں مہاجر بنانے کی ریاستی سازش قرار دیا۔ ریلی عوام نے بلتستان کی زمینوں پر قانونی مالکانہ حقوق ہونے اور جبری زمینوں پر قبضوں کے خلاف خوب نعرے بازی کی اور انتظامیہ کو اس قسم کے اوچھے ہتکنڈوں سے باز رہنے کا مطالبہ کیا۔ احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ہم گلگت بلتستان کے ایک ایک انچ زمینوں کی حفاظت ہم کریں گے ہمارے آباو اجداد نے ڈگروں کو اپنے قوانین سمیت بھگایا تھا لیکن گلگت بلتستان کے نااہل حکمرانوں نے ستر سال بعد دوبارہ گلگت بلتستان میں ڈوگرہ قوانین خالصہ سرکار کو زندہ کر کے گلگت بلتستان کے ملکیتی ارضیات کو بندر بانٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔چھومک داس میں موجود چھومک کے مسکیبوں کے گھروں کو مسمار کر کے ریاستی جبر اور ریاستی دہشت گردی کا ثبوت دیا۔ احتجاجی ریلی سے عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماوں سید علی رضوی ، غلام شہزاد آغا ، محمد علی دلشاد ، سید بشارت ، آصف ناجی ، شبیر مایار اور دیگر نے خطاب کیا اور رات تاریکی میں کی جانے والی کاروائی کو بزدلانہ حرکت تصور کرتے ہوئے انھیں دہشت گردی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر سرکار ہوش کے ناخون نہ لیں تو عوامی ایکشن کمیٹی بھرپور مذاحمت کریں گے ہم اپنی دھرتی کے ایک ایک انچ کی حفاظت کرنا جانتے ہیں ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا