شگر(نامہ نگار)علمائے امامیہ شگر کے صدر سید طہٰ شمس دین نے کہا ہے کہ ضلع شگر میں فائربریگیڈ اور ریسکیو 1122کا قیام عمل میں نہ لانا لمحہ فکریہ ہے اور ان اداروں کے نہ ہونے کی وجہ سے حادثات کے موقع پر زیادہ نقصانات معمول بن گیا ہے حکومت فوری طور پر ان اداروںکے قیام کے لئے اقدامات کریں جامع مسجد صاحب الزماں چھورکاہ شگر میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شگر اور کھرمنگ اضلاع قائم ہوئے دو سال کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن بنیادی ادارے تاحال قائم نہیں ہوا ہے جس کے باعث حادثات کے موقع پر نقصانات براداشت کرنے کے سوا متاثرین کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ شگر میں آگ لگنے کے پے درپے واقعات کے باعث متاثرین کو لاکھوں روپے مالیت سے ہاتھ دھونا پڑا لیکن حکومت کی جانب سے وعدوں کے باجود تاحال ریسکیو اور فائربریگیڈ کے دفاتر کا قیام عمل میں نہیں لایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ گلگت بلتستان نے اپنے اولین دورہ شگر کے موقع پر ان اداروں کی ضرورت کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے فوری طور پر دفاتر قائم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم کئی ماہ گزر جانے کے باجود سکریٹری داخلہ کی یقین دہانی پر عمل نہیں ہوسکا ہے انہوںنے کہا کہ اگر فائربریگیڈ کی گاڑیاں ہوتی تو گزشتہ دنوں چھتروں میں ہونے والی آتشزدگی میں غیریب کا آشیانہ جلنے سے بچایا جاسکتا تھا تاہم سہولت نہ ہونے کی وجہ سے غریب کا گھر مکمل طور پر جل کر راکھ ہوگیا انہوںنے کہا کہ محکمہ تعلیم شگر کی کاکردگی بہتر سمت میں جاری ہے تاہم اس ادارے کی کارکردگی مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے محکمہ تعلیم کے زمہ داران کو جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا انہوںنے کہا کہ پچھلے سال کی نسبت رواں سال مارچ میں کتابیں فراہم کرنا ایک حوصلہ افزا عمل ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں اور محکمہ تعلیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد نذیر شگر ی سے وعدہ کرتے ہیں کہ محکمہ تعلیم کا قبلہ درست کرنے کے لئے علماء امامیہ محکمہ تعلیم شگر کے شانہ بشانہ کھڑی ہے کیونکہ تعلیم پر توجہ دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا