گانچھے(ڈسٹرک رپورٹر) ویسے تو گلگت بلتستان میں سائبر کرائم ایکٹ نافذ ہیں لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں سائبر کرائم پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے سوشل میڈیا منفی پرپگنڈوں اور سیاسی اور نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر شخصیات کی توہین اور الزمات عروج پر نظر آتا ہے۔ گلگت بلتستان کے سوشل ایکٹوسٹ حسنین رمل کو سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے مطابق حقوق مانگنے کے جرم میں غداری جیسے الزمات لگا کر گزشتہ ایک سال سے تاحال پابند سلال ہیں ۔ لیکن دوسری طرف سوشل نیٹ ورک فیس بُک پر کئی سو فیک پروفائلز سے مسلسل گلگت بلتستان میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کی جاری ہے اس حوالے سے سائبر کرائم کے تحت کاروائی نہیں ہورہا جبکہ حکومت کی جانب سے مسلسل اخبارات میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر سزا دینے کے حوالے سے اعلان کیا جارہا ہے۔ اسی طرح گزشتہ ہفتے گلگت بلتستان کے سنئیر وکیل احسان علی کو ایک معمولی نوعیت کی پوسٹ شئیرنگ پر اُن کے خلاف فیک نام سے مسلسل پروپگنڈہ کیا گیا مختلف واٹس ایپ گروپس میں منظم حکمت عملی کے ساتھ اُن پر توہین مذہب کے الزامات لگائے، گلگت کے مختلف دیواروں پر اُن کے خلاف وال چاکینگ کی گئی جس کے نتیجے میں پولیس نے ایک گمنام شخص کی مدعیت پر اُنہیں توہین مذہب کے جرم میں گرفتار کیا اور کئی دن جیل کی سلاخوں میں رہنے کے بعد شدید عوامی احتجاج کے بعد اُنہیں رہا کردیا۔
دوسری طرف پاکستان میں سپریم کورٹ کے حکم ناموں کے بعد نواز شریف کی مسلسل نااہلیوں نے سوشل میڈیا پر قیامت برپا کیا ہو ا ہے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران بھی اس کام میں سب سے آگے نظر آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر سائبر کرائم کے خوف خطر بالاتر گلگت بلتستان کے عوامی نمائندے مسلسل توہین عدالت اور سپریم کورٹ کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے میں مصروف ہیں ۔ اُنکے اس قسم کی غیر ذمہ دارانہ رویوں کی وجہ سے عوامی ردعمل پر ان افراد کی جانب سے ننگی گالیاں دی جاتی ہے۔ بلتستان سے تعلق رکھنے والے میجر ریٹائرڈ محمد امین اور غلام حسین جو گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبر ہیں اُنکے افیشل پرفائل سے یوتھ کی طرف سے اُن کے سیاسی کردار پر اُن کے افیشل فیس بُک پروفائل پر کمنٹس کی صورت میں ردعمل کا اظہار کرنے والوں کیلئے مسلسل نازیبا الفاظ اور ننگی گالیا ں دی جارہی ہے۔ لیکن سائبر کرائم یا گلگت بلتستان کی حکومت کا اس معاملے میں بلکل خاموشی نے عوام کو سوشل میڈیا پر اُن کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور کیاہوا ہے۔ گلگت بلتستان کے سوشل ایکٹیوسٹ حضرات اُن کے اس قسم کی غیرذمہ دارانہ روئے کو سیاسی جہالت یا خطے میں نظام نہ ہونے کی وجہ سے افسر شاہی کا نام دیا دے رہاہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون ساز اسمبلی کے ممبران چاہئے کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہواُنہیں پاکستان کے قوانین اور عدالتی حکم ناموں کا احترام کرنا چاہئے اور اپنے خدشات اور احساسات کو مہذب اور سیاسی انداز میں پیش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا گلگت بلتستان کے سیاسی قیادت کا تماشہ نہ بنے۔ عوامی حلقوں نے وزیر اعلی گلگت بلتستان نے مطالبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے ممبران کا جس طرح اسلام آباد میں سیاسی تربیت دی جاتی ہے بلکل اسی طرح سوشل میڈیا کے استعمال کیلئے ٹرینگ دیں اور سائبر کرائم کا جو قانون عوام کیلئے نافذ کیا ہے اُس ان افراد پر بھی لاگو کریں ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا