شگر(عابدشگری)عالمی براداری کو کشمیری بھائیوں پر ہونے والی مظالم مظالم کا نوٹس لینا چاہئے۔گلگت بلتستان کی عوام اپنے کشمیری بھائیوں پر ہونے والی مظالم پر آفسردہ اور ان کی آزادی کیلئے دعاگو ہیں۔عالمی برادری کو دہرا معیار ترک کرکے کشمیر کی حقیقی آزادی کیلئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہیں۔ن خیالات کا اظہار یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے نکالی گئی ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام ڈپٹی کمشنر شگر بابر صاحب الدین،ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن شگر محمد نذیر شگری،پرنسپل انٹر کالج شگر سید حسن شاہ اور دیگر نے کیا۔ ضلع شگر میں بھی یوم یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا گیا۔ اس سلسلے میں ہائی سکول شگرسے ایک ریلی نکالی گئی جس میں تمام ضلعی اداروں کے سربراہوں اور سینکڑوں کی تعداد میں طلباء اور لوگوں نے شرکت کی۔ ریلی کی قیادت قائم مقام ڈپٹی کمشنر شگر بابر صاحب الدین نے کی۔ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ آزادی کے بعد کشمیر کے اکثریت پاکستان میں شامل ہونا چاہتے تھے لیکن ڈوگرہ راج نے زبردستی کشمیر کا الحاق ہندوستان کیساتھ کردیا جس کے خلاف وہاں آزادی کی تحریک اب تک جاری ہے۔ ہم کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ کشمیری مسلمانوں کو ان کی خواہش کیمطابق حق خود ارادیت دی جائے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے لوگوں پر ظلم کی پہاڑ ڈھا رہے ہیں۔جس پر خاموشی بحیثیت مسلمان کسی کو بھی جائز نہیں۔ ہم کشمیری مسلمانوں کی ہر طرح سے حمایت جاری رکھیں گے۔مقررین نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی قرارداد کیمطابق اپنے خواہشات کیمطابق فیصلہ سازی کا اختیار دی جائے۔عالمی براداری کو کشمیری بھائیوں پر ہونے والی مظالم مظالم کا نوٹس لینا چاہئے۔ گلگت بلتستان کی عوام اپنے کشمیری بھائیوں پر ہونے والی مظالم پر آفسردہ اور ان کی آزادی کیلئے دعاگو ہیں۔عالمی برادری کو دہرا معیار ترک کرکے کشمیر کی حقیقی آزادی کیلئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہیں ۔مقررین کا کہنا تھا کہ گذشتہ ستاسٹھ سالوں سے کشمیر ی عوام اپنی خودارادیت کیلئے نبرد آزماء ہے ۔عالمی طاقتون کی دہرا پالیسی اور بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے کشمیر کا ایشیو ابھی تک حل نہیں ہوسکا۔بھارت کشمیر پر ناجائز قابض ہوکر کشمیری عوام پر مظالم دھارہے ہیں ۔ گلگت بلتستان کی عوام کشمیری عوام کی پر ڈھائے جانے والی مظالم پر اتنا ہی افسردہ ہے ہم کشمیری عوام کیلئے گلگت بلتستان کی عوام کی پوری جذبات اور احساسات ساتھ ہیں۔اور دعاگو ہے کہ کشمیر کا مسئلہ جلد از جلد حل ہو۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا