گلگت ( نامہ نگار) وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن اپنے مخصوص انداز کی وجہ سے ہمیشہ میڈیا میں ان رہتے ہیں ۔ اُنکے متنازعہ بیانات نے اُنہیں ایک طرح سے میڈیا سٹار بنایا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستانی الیکٹرانک میڈیا میں بھی وہ مقبول نظر آتا ہے۔ لیکن مقامی سطح پر اُنکی کارکردگی اور خاص طور جن افرادنے اُنہیں گھیرے میں لیکر غیر جمہوری فیصلے کرنے پر مجبور کیا ہوا ہے ،وہی فیصلے اُنکے مستقبل کی سیاست کے حوالے سے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن کہا یہ جارہا ہے کہ یہ بات اُنہیں بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ اس کرسی نے اگلی بار خطے کی روایات کے مطابق اُنکے ساتھ وفا نہیں کرنا ہے، اس لئے وہ غنیمت سمجھ کر وہ ایسے فیصلے کررہے ہیں جو خطے کی مفادات سے ہٹ من پسند لوگوں کیلئے مسقتبل میں سود مند ثابت ہوگا۔ سی پیک میں حقوق گلگت بلتستان کی سودا بازی سے لیکر سکردو روڈ کی تعمیر کے حوالے سے مسلسل جھوٹ بولنے اور قومی حقوق کیلئے پر ُ امن جدوجہد کرنے والوں کی مسلسل گرفتاریوں اور نواز شریف کی حمایت میں بغاوت کرنے کی باتوں نے اُن کی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی اُنہیں گلگت بلتستان کیلئے ایک رسک سمجھتے ہیں،مذہبی جماعتوں کا اُن پر فرقہ وایت کا الزام ہے،سول سوسائٹی انہیں انسانی حقوق کے مخالف سمجھتے ہیں،یوتھ اُن کی طرز سیاست کو مذاق سمجھتے ہیں،مقامی پرنٹ میڈیا کو انہوں نے مکمل کنٹرول کیا ہوا ہے لیکن میڈیا سے منسلک لوگ نجی محفلوں میں اُن سے کافی نالاں نظر آتا ہے۔ ان تمام صورت حال کو دیکھ قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن کے کچھ اراکین نے اسمبلی اور عوامی سطح پر اُن کے خلاف گرینڈ الائنس کیلئے مشاورت جاری ہیں۔ جسکا مقصد اُن کے خلاف تحریک عدم اعتمادلانا ہے، اگر یہ الائنس کامیاب ہوتے ہیں تو اُنہیں نہ صرف سیاسی طور پر نقصان ہوگا بلکہ جو مقدمات وہ دوسروں کیلئے بنا کر خاموش کرنے کی مسلسل کوششوں میں لگے ہیں اُنہی مقدمات میں خود بھی پھنس سکتا ہے،کیونکہ پاکستان تحریک انصاف،پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے کئی تھانوں میں اُنکے خلاف غداری کی مقدمات کیلئے درخواستیں جمع ہیں۔ دوسری طرف گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں پر ایک کشمیری لابی بھی بین الاقوامی سطح پر اُن کے خلاف سرگرم ہونے کی خبریں بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا