سکردو( پ ر) مرکزی امامیہ جامع مسجد سکردو کے خطیب شیخ محمد حسن جعفری کا جمعے کے خطبے میں فٹبال میچ کے دوران پیش آنیوالے بدترین واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت ،اس فعل میں ملوث افراد کی گھناونی حرکت کو جہالت اور علاقے کی روشن تہذیب و ثقافت اور تشخص کو مسخ کرنے کے مترادف قرار دیا اور بلتستان انتظامیہ کو شدید الفاظ میں خبردارکرتے ہوئے مسقتبل میں کسی بھی ٹورنامنٹ پر پابندی کا مطالبہ کر دیا۔
بلتستان میں سود ی کاروبار اور اس گھناونی غیر اسلامی فعل میں ملوث عناصر اور سکردو روڈ کی تعمیر کے حوالے سے مسلسل جھوٹ بولنے پروفاقی اورمقامی حکومت کی واشگاف الفاظ میں پرزور مذمت اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھی انتہائی تشویش کا اظہار کیا۔
سود کے کاروبار میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے کا حکم، سیلاب ذدگان کے حوالے سے حکومتی لاپرواہیوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مقامی حکومت کوعوام کے دکھ درد اور پریشانیوں سے کوئی سروکار نہیں۔ سیلاب کے بعد کی صورت حال پر وزیراعلیٰ وزراء،مشیروں اور دیگر حکومتی نمائندوں کو ان معاملات میں لاپروایوں کا ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے پرزور الفاظ میں اس بات کو واضح کیا کہ اس وقت حکومتی اور بیوروکریسی کے بہت سارے ذ مہ داران بشمول چیف سکریٹری سرفہ رنگا ریلی کے سلسلے میں بلتستان میں موجود ہیں،لیکن مجال ہے کہ یہ لوگ سیر سپاٹے کو چھوڑ کر دکھی عوام کی بھی خبر گیری کرے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا