اسلام آباد(بیورو رپورٹ)گلگت بلتستان میں واقع دنیا کی خطرناک چوٹی قاتل پہاڑ نانگا پربت پر مہم جوئی کرنے والے 2 غیر ملکی کوہ پیما پھنس گئے جنہیں بچانے کے لیے امدادی آپریشن آج کیا جائے گا۔قاتل پہاڑ کے نام سے مشہور دنیا کی نویں اور پاکستانی کی دوسری سے بلند چوٹی نانگا پربت کو سر کرنے کی کوشش کرنے والے 2 غیر ملکی کوہ پیما پھنس گئے جنہیں بچانے کے لیے آج امدادی آپریشن کیا جائے گا۔ پھنسے ہوئے کوہ پیماؤں میں پولینڈ کے ٹوماس مسکیوچ اور فرانس کی خاتون کوہ پیما الزبیتھ ریول شامل ہیں جنہیں نکالنے کیلیے پاک فوج کا ہیلی کاپٹر روانہ ہوگا اور ریسکیو آپریشن میں پولینڈ کے 4 کوہ پیما بھی حصہ لیں گے۔کوہ پیما گروپ ‘الپائن کلب’ کے عہدیدار کرار حیدری نے غیرملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مسکیوچ اور الزبیتھ نانگا پربت کو سر کرتے ہوئے 7400 میٹر کی بلندی پر پھنس گئے اور انھوں نے سیٹیلائیٹ فون کے ذریعے بیس کیمپ کو اطلاع دی۔ نانگاپربت پر درجہ حرارت منفی 60 تک گرگیا ہے جس کی وجہ سے دونوں غیرملکی کوہ پیماؤں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ واضح رہے کہ نانگا پربت کی اونچائی 8125 میٹر ہے اور اسے دنیا کا قاتل پہاڑ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس پہاڑ کو سر کرنے کی کوشش میں اب تک متعدد کوہ پیما اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ گزشتہ سال بھی اس پہاڑ کو سر کرنے کی کوشش کرنے والے 2 کوہ پیما ہلاک ہوگئے تھے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا