گلگت (پ۔ر) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سکریڑی اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر برجیس طاہر کی ٹرانسفرمرز کی دو کروڑ کی سکیم تمام قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایل جی آر ڈی کو دی گئی ہے جبکہ قوائد کے تحت ٹرانسفرمرز کی سکیمیں پاور ڈپارٹمنٹ کے ذریعے ٹینڈر ہونی چاہئیں اور ایل جی آر ڈی کے پاس تیس لاکھ سے زائد کی سکیموں کا کوئی اختیار نہیں ہے۔مگر صوبائی حکومت اقربا پروری کی خاطر تمام قوائد و ضوابط کو روند رہی ہے۔اسکے علاوہ ایل جی آر ڈی کی سکیموں کا چیک پراجیکٹ کمیٹی کے نام پہ بنتا ہے مگر دو کروڑ کی سکیم کا چیک براہ راست مشیر اطلاعات شمس میر کے نام پہ کیسے بنا۔موصوف اپنی پارٹی اور وزیر اعلی کی پارسائی کے گن گانے میں مگن رہتے ہیں اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے اخلاقی حدود کو بھی پامال کر جاتے ہیں مگر انہیں یہ بات کیوں نظر نہیں آتی کہ انکی اپنی بدترین کرپشن کے چرچے زبان زد عام ہوچکے ہیں۔مشیر اطلاعات گلگت بلتستان کے عوام اور میڈیا کو اس بات کا جواب دیں کہ جو سکیم پاور ڈپارٹمنٹ کی ہونی چاہئے وہ ایل جی آر ڈی کو کیسے اور کیوں دی گئی۔اور ناقص ٹرانسفرمرز دے کے دو کروڑ کا چیک اپنے نام پہ کیسے بنوالیا۔ہمارا مطالبہ ہے کہ اس سکیم کے نام پر ہونے والی بد ترین کرپشن کی نیب کے ذرئعے شفاف انکوائری کرائی جائے۔تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو یہ معلوم ہوسکے کہ صوبائی حکومت اور انکے حواری کیسے گلگت بلتستان کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔اگر مختلف اداروں میں شفاف تحقیقات کی گئیں تو کرپشن کی بے شمار چھپی ہوئی داستانیں منظر عام پر آئینگی اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرنے والوں کا پورا ٹولہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوگا۔پیپلز پارٹی کے جیالوں کو جیلوں کی دھمکیاں دینے والے سن لیں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے مارشل لا کے ادوار میں جیلوں کی صعوبتیں برداشت کی ہیں حتی کہ جانوں کی بھی قربانیاں دی ہیں مگر ثابت قدم رہے ہیں۔جبکہ آمریت کی پیداوار نواز لیگ کی حکومت میں گیارہ گیارہ سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر کے بھی سرخرو ہوئے ہیں۔مگر ان کے قائدین کی طرح جیل سے ڈر کر آمر کے پاؤں پکڑ کر معافی مانگ کر اور دس سال کا معاہدہ کر کے جدہ نہیں بھاگے اور عدلیہ کے فیصلے پر بھی مجھے کیوں نکالا کی رٹ لگا کر عوام کو اپنا دکھڑا نہیں سنایا۔
صوبائی حکومت اور انکے حواری گلگت بلتستان کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا