اسلام آباد(بیورو رپورٹ) ہنزہ کے شاہی خاندان مال جایئداد کے حوالے سے جاری چپقلش کو بلاآخر رائل فاونڈیشن آف گلگت بلتستان نے دخل اندازی کرکے گورنر گلگت بلتستان میر غصنفر اور میر سلیم کے مابین صلح کروا دی۔ سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے اس کی وجہ ایک طرف گلگت بلتستان کے شاہی خاندان کی تقسیم کو بچانا تھا وہیں مبینہ تحریک عدم کیلئے مزید راہ ہموار کرنا بتایا جاتا ہے۔تفصیلات کے مطابق رائل فاونڈیشن کے اراکین و سپیکر گلگت بلتستان حاجی فدا محمد ناشاد، پی ٹی آئی گلگت بلتستان کے صدر راجہ جلال و ممبر اسمبلی و رہنما پی ٹی آئی راجہ جہانزیب نے شاہی خاندان کے جاری تنازعہ کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ رات گئے تمام جرگہ داروں نے اس تنازعے کا حل نکال کر خانوادے کو ٹوٹنے سے بچا لیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعلی حافظ حفیظ الرحمن اس خاندان کی چپقلش سے فائدہ آٹھا رہے تھے۔ ممبر قانون ساز اسمبلی میر سلیم خاندان پہلے ہی میڈیا میں اُنکا اور اُنکے خاندان میں اختلافات ڈالنے میں حفیظ الرحمن کے بھی کردار بتا چُکے ہیں۔ مقتدر حلقوں کا کہنا ہے کہ میر خاندان کے درمیان مصالحت کے بعد اب ممکنہ تحریک عدم اعتماد میں مزید جان آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلی کی اس صلح کے بعد پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ دوسری طرف گلگت بلتستان میں عدم اعتماد کی تحریک میں سابق صدر آصف علی زرداری کے کردار کے حوالے سے بھی میڈیا پر خبریں چھپ چُکی ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا