سکردو(نامہ نگار) مہاجرین کرگل لداخ کی بنیادی تمام مسائل حل کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھایا جائے یہ بات ال مہاجرین کشمیر لداخ ٹیاقشی کے صدر ڈاکٹر انور علی رینگچن نے مہاجرین کرگل لداخ پنجاب زون کے صدر علی حسن کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ان کا مزید کہنا تھا گلگت بلتستان میں مقیم مہاجرین کو وہ حقوق حاصل نہیں جو آزاد کشمیر میں مقیم مہاجرین کو حاصل ہیں. آزاد کشمیر میں پانچ مختلف جگہوں سے بارڈر کھول کر بچھڑے ہوئے خاندانوں کو ملنے کا موقع دیا ہوا ہے اور کرگل سکردو لداخ خپلو روڈ کو نہیں کھولا جارہا ہے. جو سراسر زیادتی ہے. مہاجرین کرگل لداخ پنجاب زون کے صدر علی حسن نے کہا مہاجرین کو سرفرانگاہ میں ایک بنجر اور ریگستان جگہ دے کر منہ بند کیا ہوا اور سرفرانگاہ میں پانی نکلنے کیلئے حکومتی سطح پر کوئی اقدامات نہیں اٹھایا . 1971 سے اب تک مہاجرین کو سر چھپانے کے لئے کوئی جگہ نہیں دی گئی ہے.مہاجرین کشمیر لداخ ٹیاقشی کے جنرل سیکرٹری محمد اقبال امجد پردیسی فردوس جمال حسن امین زبیر احمد اور دیگر نے بھی اپنے خطاب میں پاک بھارت دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ بچھڑے ہوئےخاندانوں کو ملانے کیلئے فوری اقدامات اٹھایا جائے.
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا