اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) ایک اندازے کے مطابق گلگت بلتستان میں5218گلیشئرز اور 2420گلیشئرز جھلیں موجود ہیں جن میں سے 52جھیلوں کو انسانی آبادی کیلئے خطرناک قرار دیا جا چکا ہے ۔گلگت بلتستان میں5218گلیشئرز اور 2420گلیشئرز جھلیں موجود ہیں جن میں سے 52جھیلوں کو انسانی آبادی کیلئے خطرناک قرار دیا جا چکا ہے ۔ حالیہ دنوں پاکستان میٹرولوجی ڈپارٹمنٹ کی ریسرچ سروے کے مطابق گلگت بلتستان میں 36گلیشر جھیلیں موجود ہیں سروے کے مطابق 7جھیلیں انتہائی خطرناک ، 12خطرناک اور 13کم خطرناک ے۔ انتہائی خطرناک جھیلیں کسی بھی وقت پھٹ سکتی ہے جو مقامی آبادیوں کو بڑے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔کم خطرناک جھیلیں بارش اور زلزلہ کے باعث خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں ۔ گلگت بلتستان کے جن علاقوں میں گلیشر جھیلیں موجود ہیں ان میں گلگت ، ہنزہ ، استور ، شگر ، شکیوٹ ، انڈس شامل ہیں ۔ گلگت میں بگروٹ ، ہنزہ ، اپر ہنزہ ، اشکومن ، یاسین ، استور ، گوپس کی جھیلیں خطرناک ہیں جو پھٹنے کے سبب نقصان کا باعث بن سکتی ہیں ۔ ان خطرناک جھیلوں کے پھٹنے کے سبب زرخیز زمینوں ، فصلوں ، جنگلات ، روڈ ، واٹر چینل پائپ لائن اور آبادیوں کو نقصان پہنچنے کے خطرات ہیں ۔ انٹر نیشنل سنٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ (ICIMO) کے سائنسٹسٹ کے ہمالیہ اور ہندوکش کی تیزی سے پگھلنے والے گلیشرز کے حوالے سے ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ ہمالیہ اور ہندوکش کے گلیشرز کے پگھلنے کی ایک اہم وجہ بلیک کاربن ہے ۔ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے بھی گلیشرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ جیسے گھروں میں لکڑی جلانے کے بعد ایندھن کے جلنے سے جو کالا دھواں نکلتا ہے وہ انرجی یا لائٹ کو اپنے اندر تیزی سے جذب کر دیتا ہے کاربن ڈائی آکسائیڈ ، کالانا دھواں صحت کے ساتھ ساتھ ماحول کیلئے بھی خطرناک ذہر ہے ۔ کیونکہ ان علاقوں میں لکڑیاں بہت جلتی ہیں اسکے علاقہ کالا دھواں ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں سے بھی زیادہ مقدار میں نکلتا ہے۔ بلیک کاربن سے برف جلدی پگھل جاتا ہے اور بیلک کاربن کی وجہ سے برف پگھلنے کی رفتار زیادہ تیزی سے ہوتی ہے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا