اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسحاق ڈار کو اشتہاری قراردینے کا احتساب عدالت کا فیصلہ برقراررکھتے ہوئے اشتہاری قرار دینے کے خلاف دائر درخواست خارج کراچی، جبکہ احتساب عدالت کی کارروائی پر جاری حکم امتناع بھی ختم کردیا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے انوکھا کام ہوا کہ ملزم کو مفرور قرار دے دیا گیا، پرملزم بھی کیس میں نیک نیتی ثابت نہیں کر سکا۔ جسٹس میاں گل اورنگزیب نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ پڑھ کر لگتا ہے کہ رپورٹ ملزم کے کہنے پر لکھی گئی ہے۔ وکیل ملزم اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کو اپنی مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کرانے کا حق ہے، جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ انہیں یہاں کے ڈاکٹروں پر اعتماد نہیں؟ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پاکستان میں بھی علاج کی بہتر سہولیات دستیاب ہیں۔
اسحاق ڈار اشتہاری برقرار،عدالت نے فیصلہ سُنا دیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا