چلاس(پ،ر) صدر جماعت اہلسنت گلگت بلتستان نے داریل میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی داریل تانگر کو ضلع نہ بنانا سراسر زیادتی ہے 40اور 45 ہزار کی آبادی والے علاقوں کو ضلع کا درجہ دیا جاتا ہے جبکہ -75 اور80 ہزار والے کو الگ الگ ضلع کیوں نہیں بنایا جارہا ۔داریل تانگیر کو ملاکر ایک لاکھ پچاس ہزار کی آبادی کو ضلع نہیں بنایا جارہا ہے آخر ہمارا قصور کیا ہے کیا ہم پاکستانی نہیں ہیں ضلع نہ ہونے کی وجہ سے داریل و تانگر کے لوگوں کو چلاس جانا پڑتا ہے اسی وجہ سے سالانہ 15 کروڑ کا خرچہ آتا ہے اگر جلد از جلد ضلع کا درجہ نہ دیا تو ہم سڑکوں پر نکلیں گے۔مقررین نے خطاب میں کہا حفیظ الرحمن کی حکومت سے مہدی شاہ ہزار درجہ بہتر تھا جس نےسب ڈویژن کا درجہ دیا لیکن مسلم لیگ کی حکومت اخباری بیانات کے ذریعے عوام کو بیوقف بنا رہے ہیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا