اسلام آباد(بیورو رپورٹ)چائینہ میں جی بی گورنمنٹ کی طرف سے سکالرشپ پر تین سالہ ڈپلومہ کیلئے بھیجے گئے طلباء حکومت کی طرف سے سکالرشپ کی عدم فراہمی کی وجہ سے شدید مالی مسائل کے شکار ہیں۔ صوتی پیغام کے ذریعے اُنہوں نے ہمیں بتایا کہ حکومت ان کی بات سُننے کیلئے تیار نہیں ہے بلکہ کہا جا رہا ہے کہ ساکالرشپس کا مسئلہ حل ہونے میں ایک سال کا عرصہ لگ سکتا ہے ، لہذا اپنا انتظام خود کر لیں۔ چائنا میں پڑھنے والے طلباء کا کہنا ہے کہ حکومت نے اگر یہی سب کچھ ہمارے ساتھ کرنا تھا تو ہمیں یہاں کیوں بھیجا گیا ؟ کیوں حکومت ہمیں فاقوں مارنے پہ تلی ہوئی ہے؟ہم میں سے کئی طلباء ایسے ہیں جن کے گھروں میں کوئی کمانے وال نہیں مگر حکومت کا ٹس سے مس تک نہیں ہو رہی جس سے ہماری تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ طلباء نے فریاد کیا ہے کہ یہی سلسہ رہا تو ہمارے لئے تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو جائیگا ، طلباء نے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے مسائل کے حل کیلئے محکمہ تعلیم ،میں فوکل پرسن متعین کیا جاۓ تاکہ ہم براہ راست ان سے رابطہ کر سکیں اور اپنے مسائل پیش کر سکیں ۔ طلباء نے وزیر اعلی ، وزیر تعلیم اور سکریٹری تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کی ان کے سکالرشپ کا مسئلہ فوری طور پر حل کریں تاکہ وہ معاشی پریشانیوں سے آذاد ہو کر اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔
سرکاری اسکالر شپ پر چائنا جانے والے طلباء شدید مالی مسائل سے دوچار۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا