اسلام آباد (مانیٹرینگ ڈیسک ) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر نے ٹیلی فون کیا۔ گزشتہ ہفتے ایک امریکی سینیٹر کی جانب سے بھی آرمی چیف کو فون آیا تھا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل جوزف نے آرمی چیف کو امریکی سیکیورٹی امداد سپورٹ فنڈ کے متعلق آگاہ کیا۔ جنرل جوزف کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار کی قدر کرتا ہے۔ صورتحال عارضی ہے امریکا کا پاکستان میں کارروائی کا ارادہ نہیں۔ امریکا افغان شہریوں کے معاملے میں پاکستان کے تعاون کا خواہاں ہے۔
دوسری جانب آرمی چیف کا کہنا تھا کہ امریکی حالیہ بیانات سے پوری پاکستانی قوم کو شدید رنج ہوا۔ ٹرمپ کی حقیرانہ زبان پر پاکستانی قوم کو لگتا ہے کہ دھوکہ ہوا۔ ’امداد کی بحالی کی ضرورت نہیں، ہماری قربانیوں کو تسلیم کیا جائے‘۔ان کا کہنا تھا کہ قوم سمجھتی ہے جیسی زبان استعمال کی گئی وہ دھوکہ دہی کے مترادف ہے۔ 10 سال سے زائد پرانے تعاون پر حقارت انگیز زبان استعمال کی گئی۔آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان انسداد دہشت گردی کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔ امریکی امداد کے بغیر دہشت گردی کے خلاف اقدامات جاری رکھیں گے۔ یہ اقدامات قومی مفادات کو مد نظر رکھ کر کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت نقصان اٹھایا۔ پاکستان میں افغان شہریوں کی سرگرمیوں پر امریکی تحفظات سے آگاہ ہیں۔ اس تناظر میں آپریشن رد الفساد کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے. آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے افغان شہریوں کو وطن واپس بھیجنا ہوگا۔ پاکستان بارڈر کنٹرول پر کام کر رہا ہے۔ کابل کی بھی اولین ترجیح بارڈر کنٹرول ہونی چاہیئے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا