کراچی(ذیڈ اے کھرمنگی) پروفیشنل سوشل ورکر فورم گلگت بلتستان کے چیرمین و معروف میڈیکل سوشل ورکر سید کامران رضوی نے اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ پروفیشنل سوشل ورکر گلگت بلتستان بہت جلد سوشل سائنٹسٹ کے ساتھ مل کر عمرانیات اور سماجی بہبود کے طالب علموں اور پروفیشنل کو درپیش مسائل کے حل کے لئیے جلد تحریک شروع کرینگے.جس کا مقصد گلگت بلتستان میں موجود ماہرین سماجیات کو درپیش مسائل کو حل کرنا ہے .انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے کالجوں میں سماجی بہبود اور دوسرے سوشل سائنس کے مضامین نہ رکھنے کی وجہ سے ایک طرف ماہرین سماجیات بے روزگار ہے تو دوسری طرف گلگت بلتستان میں موجود سماجی مسائل میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے.ان کا کہنا ہے کہ اگر این جی اوز میں سوشل سائنس کے طالب علموں کو کام کرنے کا صیح موقعہ مل پاتا تو آج معاشرے کی حالات کافی بہتر ہوتا .انہوں نے وزیر تعلیم ابراہیم ثنائی سے مطالبہ کرتے ہوئے کہ آپ بحثیت سنئیر سوشل ورکر سماجی ماہرین کو درپیش تمام مسائل کو حل کرنے کے لئیے اقدامات کریں.اور گلگت بلتستان کے تمام کالجوں میں سماجی بہبود کو اختیاری مضامین کے طور پر پڑھانے کے لئیے جلد از جلد اقدامات کریں.اور گورنمنٹ سوشل ویلفیر ڈیپارٹمنٹ ,ہسپتال محکمہ بیت المال اور دوسرے عوامی فلاحی ادروں میں سوشل ورکر پروفیشنل کو ترجیح دے تاکہ آج کی ترقی یافتہ دور میں سماجی بہبود کے شعبے سے حاصل ہونے والے فوائد کو سماج تک رسائی کا موقع ملے سکے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا