چلاس(نامہ نگار) جشن آزادی پاکستان کے سلسلے میں ضلعی ہیڈ کوارٹر چلاس میں منعقدہ تقریب شدید بد نظمی کا شکار ہوگئی،انتظامیہ نے جشن آزادی کی تقریب ہائی سکول چلاس کے گرونڈ میں رکھنے کے بجائے سکول کے ہال میں منعقد کرایا ، جشن آزادی کی تقریب میں عوام کی بڑی تعداد کو ہال کے اندر آنے نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے عوام تقریب میں شریک نہ ہوسکے ۔اور ہال کے اندر لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے بگھدڑ مچ گئی اور سامعین شدید بد نظمی کے حالت میں پروگرام کے دوران پسینے سے شرابور ہوتے رہے ،لیکن انتظامی زمہ داروں کے کانوں میں جوں تک نہ رینگی۔۔۔ جشن آزادی کی تقریب میں مناسب انتظامات نہ کیئے جانے پر شہری برہم ہوئے اور انتظامیہ پر برس پڑے ۔مقامی شہریوں نے جشن آزادی کی ریلی کے بعد ڈی سی دیامر کو جشن آزادی کی تقریبات کے انتظامات سے متعلق شکایات کیئے تو ڈی سی دیامر دلدار ملک نے کہا کہ اگر انتظامات میں مزید رنگ بھر دیا گیا تو فتوے لگیں گے ،جس پر شہری خاموش رہے ۔
یوم آزادی پاکستان کے سلسلے میں ضلعی ہیڈ کوارٹر چلاس میں منعقدہ تقریب شدید بد نظمی کا شکار ہوگئی،انتظامیہ نے جشن آزادی کی تقریب ہائی سکول چلاس کے گرونڈ میں رکھنے کے بجائے سکول کے ہال میں منعقد کرایا ، جشن آزادی کی تقریب میں عوام کی بڑی تعداد کو ہال کے اندر آنے نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے عوام تقریب میں شریک نہ ہوسکے ۔اور ہال کے اندر لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے بگھدڑ مچ گئی۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا