گلگت ( ڈسٹرک رپورٹر) گلگت بلتستان کے سرکاری اداروں میں کئی سالوں سے ریگولر کے ہونے کی امید سے بیٹھے عارضی ملازمین نے آج اتحاد چوک پر حکومت کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرہین کا کہنا تھا کہ اس وقت 26محکموں کے چار ہزار سے زائد عارضی ملازمین ریگولر ہونے کے منتظر ہیں لیکن حکومت کی طرف سے ان افراد کو کچھ اضافی نمبروں کے ساتھ اشتہارات کے ذریعے ٹیسٹ میں شامل ہونے کو کہاجارہا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اب تک حکومت کی جانب سے مختلف سرکاری محکموں میں کام کرنے والے کئی ہزار افراد کو ریگورلر کرچُکے ہیں لیکن جب اُنکی باری آئی تو کچھ اضافی نمبر دینے کا بہانا بنا کر ٹیسٹ میں بٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے جو کہ ہمارے اوپر ظلم ہے اگر یہ تمام لوگ جو گزشتہ کم از کم بیس سالوں نوکری کے اہل نہیں تھے تو اتنے عرصے عارضی ملازمت کیوں رکھا۔ مظاہرین کا کہنا تھا ہمیں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں کام کرنے والے عارضی ملازمین کی نمائندگی حاصل ہے لہذا گلگت میں مسلہ حل نہیں ہوا تو احتجاج کا دائرہ دیگر اضلاع تک بھی بڑھایا جائے گا۔
دوسری طرف جب ہم نے اس سلسلے میں حکومت اور اپوزیشن پارٹیوں کے کچھ رہنماوں سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو کہا یہ جارہا ہے کہ کچھ حکومتی مشیر اور وزیر ان افراد کی جگہ اپنے عزیز اقارب کو کھپانے کیلئے برائے نام اخبارات میں اشتہارات دینا چاہتے ہیں کیونکہ یہ تمام ملازمتیں پہلے کی حکومتی وزیروں اور مشیروں میں تقسیم ہوچُکی ہے۔ لہذا عارضی ملازمین کے ساتھ یہ ذیادتی حکومت کی جانب سے اقرباء پروری کی ایک انتہاء ہے
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا