سکردو(نامہ نگار) گلگت بلتستان میں 2017 میں کیا گزرا اور کیا کیا ہوا؟ تحریر نیوز کے مطابق سال 2017 میں دل کی بیماری نے بڑے بڑے سیاسی و سرکاری افسران کی جان لی ان میں آغا رضی الدین محمد نذیر مرزا حسین جج نظیم شہزاد ضیا اور دہشت گردوں نے کے پی کے کا ایڈیشنل ائی جی اشرف نور کو شہید کیا گیا اور قومی ہیرو مشہور کوہ پیما حسن سدپارہ اور بابائے صحافت سید مہدی شاہ بلتستان کے سماجی شخص حاجی عباس سدپارہ اور چھوربٹ کے انجینئر شیر علی بھی اس دنیا کو چھوڑ دیا اور موسمی اعتبار سے فروری کے مہینے میں برف باری نے 42 سالہ ریکارڈ توڑ دیا اور اس سال گلگت بلتستان کی وادیاں دیکھنے انے والے سیاحوں کی تعداد پندرہ لاکھ تک رہا جو گلگت بلتستان کی تاریخ کا سب سے زیادہ ہے تعلیمی شعبے کی بات کروں تو اس سال این ٹی ایس کے تحت اساتذہ کی خالی اسامیوں پر بھرتی پہلی مرتبہ میرٹ پر ہوا ہے اس سال مئی کے مہینے میں واپڈا پاور ون ٹو کا ٹربائن خراب ہونے کی وجہ سے پابچ دن سکردو میں بجلی کی مکمل بند اور سکردو شہر میں اندھیرا چھایا رہا سکردو میں اگست کے مہینے میں سرفرانگاہ جیب ریلی منعقد ہوا اور اور سدپارہ کے مقام سیلاب کے زد میں اکر پانچ افراد جان بحق ہوا اور ان کا لاش اب تک نہیں مل سکا ہے اس سال اسماعیلی فرقے کے امام پرنس کریم آغا خان نے اپنا دیدار بھی کرایا اور ٹیکس ایشو پر بلتستان کے عوام نے گلگت کی طرف تاریخی لانگ مارچ بھی کیا گیا تھا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا