اسلام آباد( ویب ڈیسک)اسلام آباد میں قبائلی عمائدین اور مختلف رہنمائوں پر مشتمل فاٹا گرینڈ الائنس اور فاٹا سپریم کونسل کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آزاد قبائل کو زبردستی شامل کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس بھی نہیں ہے، انضمام امریکی غلامی کی دوسری قسط ہے، الگ صوبہ چاہئے،گلگت بلتستان کوحکومتی نظام دیا جاسکتا ہے تو فاٹا کوکیوں نہیں، ہم پاکستان میں غلام کی حیثیت سے نہیں رہیں گے اگر قبائل کی آزادی چھینی گئی میں جیل جانے کو تیار ہوں۔ اس موقع پر قبائلی رہنمائوں نے اپنی تقاریر میں فاٹا کے انضمام کی کوششوں کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ قبائلی عوام سے انکی رائے معلوم کریں بصورت دیگر کوئی بھی فیصلہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔مولانا نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کشمیر کی حق ارادیت کی بات کی اور آزاد قبائل کے حق خودارادیت کی بات بھی کرتا رہونگا۔تمام پارٹیوں کو کہنا چاہونگا کہ آپکے کارکن آزاد قبائل کے اس جلسے میں شریک ہیں وہ اپنی پارٹیوں کے قبائل مخالف موقف سے خوش نہیں ہیں،آپ کن کی خوشی کیلئے ایسا کررہے ہیں۔پارلیمنٹ ہو یاحکومت، وہ ملک کے جغرافیے کو تبدیل نہیں کرسکتی۔قبائل آزاد ہیں۔ میں ایک گھنٹے کیلئے بھی پاکستان میں غلامی کی زندگی نہیں گزاروں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں آزادی کیلئے جنگ لڑ رہا ہوں، ہم آزادی کی باتیں کرینگے کیونکہ ہم ہمیشہ آزادی پسند رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عوامی رائے کے فیصلے کیخلاف کوئی آپشن قبول نہیں کرینگے۔فاٹا کے عوام کو جو ہاتھ دیا ہے وہ کٹ سکتا ہے، جدا نہیں ہو سکتا۔میں پشتون لیڈرز سے پوچھتاہوں کہ وہ فاٹا کے عوام کو اختیار دلوانے میں کیوں پیچھے ہٹ گئے؟فاٹا کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرینگےوہ آزاد ہیں اور ان کا فیصلہ بھی آزاد عوام کے فیصلوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ہم جبر کو تسلیم نہیں کرینگے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا